مزاحمتی سیاست نے پارٹی کو نقصان پہنچایا، قیادت لائحہ عمل نہیں دے سکی، شوکت یوسفزئی

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزاحمتی سیاست نے پارٹی کو نقصان پہنچایا، اب عملی سیاست، مذاکرات اور اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا تاثر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں شوکت یوسف زئی نے کہاکہ 11 اکتوبر کے بعد پارٹی قیادت کی جانب سے اب تک کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق رائے دینا قبل ازوقت، عطااللہ تارڑ

 ان کے مطابق کارکن تذبذب کا شکار ہیں اور 11 اکتوبر کو بھی قیادت کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کا انتظار کرتے رہے تاہم جن رہنماؤں نے پلان دینا تھا، وہ سامنے نہیں آئے۔

شوکت یوسف زئی کے بیان کا اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں پر تحفظات کے ساتھ پارٹی کی اپنی حکمت عملی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 ان کا موقف ہے کہ محض مزاحمتی سیاست سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، اس لیے پارٹی کو احتجاج اور تصادم کے تاثر سے آگے بڑھ کر مذاکرات اور سیاسی نتائج کے حصول پر توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ پارٹی کو بند گلی سے نکالنے کے لیے بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا، اسد قیصر، عاطف خان اور علی محمد خان کو آگے آنا ہوگا۔

بیرسٹر گوہر کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیاکہ موجودہ صورت حال میں پارٹی کو ایسی قیادت درکار ہے جو سیاسی حکمت عملی وضع کرنے اور کارکنوں کی بے یقینی دور کرنے میں مؤثر کردار ادا کرے۔

پی ٹی آئی رہنما نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کو عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تینوں کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:فضل الرحمان پی ٹی آئی کو قائل کرنے میں ناکام رہے،طارق فضل چوہدری

شوکت یوسف زئی نے کہاکہ انہوں نے پہلے ہی لانگ مارچ موخر کرکے مذاکرات کرنے کی تجویز دی تھی۔ ان کے مطابق اداروں کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں، اس لیے محاذ آرائی کا تاثر زائل کرنا ضروری ہے۔

 انہوں نے ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ دینے والے فوجی اور پولیس اہلکاروں کو قابل فخر قرار دیا۔