مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان کے چاروں صوبوں میں نجی شعبے سے وابستہ ملازمین کیلئے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) کے تحت بڑھاپے کی پنشن اور دیگر متعلقہ سماجی تحفظ کی سہولیات دستیاب ہیں
تاہم آزاد کشمیر میں نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین تاحال اس سہولت سے محروم ہیں۔
نجی شعبے میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں مستقبل کے معاشی تحفظ، بڑھاپے میں مالی معاونت اور باقاعدہ پنشن کے حوالے سے شدید تشویش لاحق ہے۔
ان کے مطابق دورانِ ملازمت باقاعدگی سے خدمات انجام دینے کے باوجود ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ کا کوئی مؤثر نظام موجود نہ ہونا ایک اہم سماجی مسئلہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کوٹلی: مسلح جتھے کیخلاف کارروائی، 8 شرپسند گرفتار، دستی بم، بھاری اسلحہ برآمد، پولیس حکام
ملازمین اور عوامی حلقوں نے حکومت آزاد کشمیر اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا قانونی اور انتظامی جائزہ لیا جائے اور آزاد کشمیر کے نجی شعبے کے ملازمین کو بھی سماجی تحفظ کے دائرے میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کئے جائیں۔
متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کے ملازمین کو بڑھاپے میں مالی تحفظ اور پنشن کی سہولت فراہم کرنا نہ صرف ان کے بنیادی معاشی حقوق کے تحفظ کیلئے ضروری ہے بلکہ اس سے لاکھوں خاندانوں کے مستقبل کو بھی زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
آزاد کشمیر میں نجی شعبے کے ملازمین کو EOBI یا اس کے متبادل مؤثر سماجی تحفظ کے نظام میں شامل کرنے کا معاملہ طویل عرصے سے توجہ کا متقاضی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی منظوری سے وزراء کے لیے نئے محکموں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس حوالے سے واضح پالیسی مرتب کرتے ہوئے عملی پیش رفت کریں۔
کشمیر ڈیجیٹل کی یہ رپورٹ آزاد کشمیر کے نجی شعبے سے وابستہ ملازمین کے اس اہم عوامی مسئلے کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔




