ڈاکٹرآصف کی کاوشوں کو سلام، آرایچ کیو میں ایم آر آئی مشین فعال

​تحریر: شایان رضا بیگ

​انسان زندگی بھر محنت کرتا ہے، وسائل جمع کرتا ہے، کامیابی کے زینہ بہ زینہ مراحل طے کرتا ہے اور بظاہر سب کچھ حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن جب صحت کا معاملہ سامنے آئے اور وقت پر مناسب علاج یا بہترین طبی سہولیات میسر نہ ہوں، تو دنیا کی تمام دولت، آسائشیں اور کامیابی بے معنی معلوم ہوتی ہیں۔ صحت واقعی اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم الشان نعمت ہے جس کے سامنے دنیا کی ہر خوشی، کامیابی اور تمام تر رونقیں پھیکی پڑ جاتی ہیں۔ جب کوئی اپنا یا انسان خود شدید تکلیف میں ہو اور صرف اچھے علاج کی عدم دستیابی کی وجہ سے بے بس ہو جائے، تو اس سے بڑا پریشانی اور کچھ نہیں ہو سکتا۔

​اہلِ بلتستان کے عوام کے لیے یہ انتہائی خوشی اور اطمینان کی بات ہے کہ آر ایچ کیو (RHQ) ہسپتال سکردو میں کافی عرصے سے غیر فعال ایم آر آئی (MRI) مشین کو بالآخر فعال کر لیا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان  امجد حسین ایڈووکیٹ نے حال ہی میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں اس اہم ترین عوامی مسئلے کو زیرِ بحث لا کر اس کی بحالی کی منظوری دے کر بلتستان کے چاروں اضلاع کے عوام پر ایک بڑا احسان کیا ہے۔ ان کا یہ اقدام یقینا انتہائی قابلِ تحسین اور خراجِ تحسین کے مستحق ہے۔

اس دورِ جدید میں عوام کو بنیادی سہولیات بالخصوص صحت و معالجے کی معیاری دیکھ بھال فراہم کرنا ہی حقیقی اور مخلص عوامی نمائندوں کی اصل پہچان ہوتی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کویت میڈیکل کمپلیکس، درد مند دلوں کیلئے مرہم

​وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ اور ان کی کابینہ کو حلف اٹھائے تقریباً تین ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے اور ان چند ماہ کے دوران انہوں نے عوامی مسائل، بالخصوص صحت، تعلیم اور بنیادی ضروریات کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھ کر ان کے حل کے لیے کافی کلیدی کردار ادا کیا ہے قابل تعریف ہے۔ اس کے انھوں نے عہدے کا حلف لیتے ہی بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی اور دیگر عوامی مساٸل کو بہتر سے بہتر طریقے سے حل کرانے پر ہر پلیٹ فارم پر عوامی حلقوں نے بھرپور انداز میں سراہا ہے۔

​حالیہ کابینہ اجلاس میں بھی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی خصوصی توجہ کے باعث ریجنک ہسپتال سکردو کی غیر فعال ایم آر آئی مشین کو فعال کرنے کا دیرینہ مسئلہ حل ہوا ، ایم آر آئی مشین غیر فعال رہنے کی وجہ سے  ایک طویل عرصے سے علاقے کے عوام کو پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج  و معالجہ میں شدید مشکلات کا سامنا تھا ۔ اب ایم آر آٸی مشین کے فعال ہونے سے مریضوں کو جدید تشخیصی سہولیات اپنے ہی سرکاری ہسپتال میں میسر آئیں گی، جس سے انہیں دور دراز بڑے شہروں (اسلام آباد ،کراچی ،لاہور) کی طرف بھاری سفر اور علاج کے اخراجات اٹھا کر جانے سے نجات ملی ہے یہ اہل بلتستان کے چاروں اضلاع کے عوام کیلئے صحت کے شعبے میں ایک بڑا اور تاریخی ریلیف ہے ۔عوام کو اپنے گھر کی دہلیز پر بروقت تشخیصی و طبی سہولیات دستیاب ہوں گی ۔۔

​جہاں صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ قابلِ قدر ہے، وہیں ریجنل ہسپتال سکردو کے ایم ایس ڈاکٹر آصف رضا کی کاوشیں اور انتظامی صلاحیتیں بھی بے حد سراہنے کے قابل ہیں۔ ہسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی اور نظام کی بہتری میں جو مثبت اور واضح تبدیلی آئی ہے، وہ ان کی بہترین مینجمنٹ اور اعلیٰ کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہسپتال میں ان کی بطور ایم ایس تعیناتی کے بعد جو حقیقی اور مثبت تبدیلی آئی ہے، اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جس کا کوئی عزیز و اقارب وہاں زیرِ علاج رہا ہو ۔

​کسی بھی ادارے کے سربراہ کو یوں رات گئے اپنی نیندیں حرام کر کے ہسپتال کی دیکھ بھال اور چائلڈ/ایمرجنسی وارڈز کی چیکنگ کرتے ہوئے ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ الحمدللہ! یہ خوش آئند منظر ہم نے ریجنل ہسپتال سکردو میں دیکھا کہ ایک فرض شناس ایم ایس، دن بھر کے تمام تر انتظامی امور نمٹانے کے باوجود، رات کے وقت بھی اپنی نیندیں چھوڑ کر  مریضوں اور تیمارداروں کی مشکلات کا جائزہ لینے اور عملے کی حاضری یقینی بنانے خود پہنچ جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل ان کی ادارے اور عوام کے ساتھ مخلص ہونے کی بین ثبوت ہے ۔

​چاروں اضلاع کی بڑی آبادی اور مریضوں کا بوجھ ہونے کے باوجود صوبائی حکومت، محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ جس طرح مل جل کر کام کر رہی ہے، یقینا قابل تحسین اور عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہے ۔۔

ریجنل ہسپتال سکردو میں ایم آٸی آر مشین کو فعال کرانے میں جن جن شخصیات کا ہاتھ ہے بطور ایک قلم کار ان سب کا تہہ دل سے مشکور ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آٸندہ بھی عوام کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرانے میں سب یکجا کر کلیدی کردار ادا کرنے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔۔۔