وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کابینہ کے بعض ارکان وفاقی حکومت سے رابطے میں ہیں اور موجودہ صورت حال کا کوئی راستہ نکالنے کی درخواست کر رہے ہیں، تاہم وزیراعلیٰ کے سخت گیر رویے کے باعث معاملات کے حل کی پیشرفت نظر نہیں آ رہی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے بعض لوگ ہم سے رابطہ کرکے کہتے ہیں کہ خدارا کوئی راستہ نکالا جائے، تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مؤقف کے باعث صورتحال پیچیدہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں 4اکتوبر سے پہلے ایمرجنسی لگ سکتی ہے، وزیرمملکت قانون
وزیر مملکت برائے قانون کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور پارٹی کے دیگر رہنما بھی وفاق سے رابطے اور بات چیت کے خواہاں ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مذاکرات اور کسی ممکنہ حل پر آمادہ کرنے کی ضمانت کون دے گا۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی مبینہ نااہلی اور ناکامیوں کا بوجھ وفاقی حکومت کب تک اٹھاتی رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے معاملات میں وفاق کی جانب سے مسلسل معاونت کی بھی ایک حد ہے۔ بیرسٹر عقیل ملک نے مزید الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہیں کر رہے اور نیشنل ایکشن پلان پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی بیٹوں سے بات کیوں نہ ہوسکی؟ بیرسٹر عقیل نے بتا دیا
واضح رہے کہ وزیر مملکت کے بیان میں کئے گئے یہ دعوے ان کا مؤقف ہیں جبکہ خبر میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا یا صوبائی حکومت کا مؤقف شامل نہیں کیا گیا۔




