اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اگر غیر آئینی اقدامات سے باز رہنے کی یقین دہانی کرائے تو وفاق ایمرجنسی کی طرف نہیں جائے گا بصورت دیگر وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ آئینی خلاف ورزیوں کو روکا جائے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ ایمرجنسی لگانا پسندیدہ عمل نہیں تاہم اگر خیبرپختونخوا حکومت وفاقی حکومت پر چڑھ دوڑے گی تو آئین میں اس کا راستہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ کسی بھی گروہ کا اسلام آباد میں داخلہ بند ہے : رانا ثناء اللہ
انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے خیبرپختونخوا میں کوئی کام نہیں کیاجبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مطابق ان کا مقصد صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی ہے۔
ان کے بقول سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ صوبے کی بہتری کے لیے کام کرنا ان کا مینڈیٹ نہیں۔ عمران خان کو عدالتوں سے رہائی ملے گی، اسلام آباد پر چڑھائی کرنے سے نہیں۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت کا موجودہ عمل آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہے اور اگر وہ اسی عمل پر بضد رہی تو وفاق اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرےگا۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اقدامات نہیں کررہی اور شہدا کے ساتھ اظہار ہمدردی پر بھی یقین نہیں رکھتی۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 8 ماہ سے خیبرپختونخوا حکومت صرف لانگ مارچ پر ہی غور کر رہی ہے۔ اگر صوبائی حکومت آئینی طریقے سے اپنا کردار نبھائے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں 4اکتوبر سے پہلے ایمرجنسی لگ سکتی ہے، وزیرمملکت قانون
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کو موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان مذاکرات آں ریکارڈ نہیں بلکہ آف دی ریکارڈ ہیں اور اس دوران ساری باتیں ہوتی رہی ہیں۔
رانا ثنااللہ کے مطابق آف دی ریکارڈ گفتگو کا مقصد خیبرپختونخوا حکومت کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ خود کو غیر آئینی مہم سے علیحدہ کرے۔




