مظفرآباد: وادی میں روایتی انداز کے ساتھ چاول کی فصل کی کٹائی کا بھرپور آغاز

مظفرآباد میں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی وادی میں ایک انوکھی اور خوبصورت روایت کا باضابطہ آغاز ہو جاتا ہے، جہاں روایتی فصلوں کی کٹائی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کی طرح مظفرآباد میں بھی آج بھی صدیوں پرانی اور آبائی روایت کے مطابق چاول کی فصل کاشت کی جاتی ہے، جو زمین کی زرخیزی اور کسانوں کی شبانہ روز محنت کے بعد تقریباً تین ماہ کے عرصے میں مکمل تیار ہو کر کسانوں کے گھروں میں محفوظ کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزن بڑھائے بغیر چاول کھانے کے لیے ماہرینِ غذائیت کی جدید تحقیق

کاشتکاری، روایات اور روزمرہ معمولات:

خطے کے دیہی اور بالائی علاقوں میں سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ کاشتکاری اور زراعت کو آج بھی لوگوں کے روزمرہ معمولات، ثقافتی ورثے اور اضافی معاشی آمدن کا ایک انتہائی اہم حصہ مانا جاتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ جدیدیت کے اس دور میں بھی نوجوان نسل اپنے بزرگوں کی اس قدیم اور محنت طلب روایت کو انتہائی جوش و خروش کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے، جو خطے کی زرعی ثقافت سے ان کے گہرے لگاؤ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اگرچہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، تعمیرات اور کم ہوتے زرعی رقبے کے باعث زراعت کا شعبہ بتدریج محدود ہوتا دکھائی دے رہا ہے، تاہم اس کے باوجود مقامی کسانوں اور عوام کا کاشتکاری کے اس مقدس پیشے سے جڑا رہنا اس بات کا غماز ہے کہ آج بھی یہ شعبہ خطے کی معیشت اور روایات میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔