عام طور پر وزن کم کرنے کے سفر میں سب سے پہلے چاولوں کو غذا سے نکالنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، لیکن طبی ماہرین نے اب اس تاثر کو رد کرتے ہوئے وزن بڑھائے بغیر چاول کھانے کا انتہائی آسان اور صحت بخش طریقہ کار واضح کر دیا ہے۔
کلینیکل نیوٹریشنسٹ ڈاکٹر رینوکا مائنڈے کے مطابق چاول صدیوں سے ہماری روایتی غذا کا ایک اہم اور ناگزیر حصہ رہے ہیں۔ اگر ان کا استعمال مناسب اور متوازن مقدار میں کیا جائے تو یہ ایک بہترین اور صحت مند طرزِ زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی بھی بنیادی غذا کو زندگی سے بالکل خارج کرنے کے بجائے ہمیشہ متوازن خوراک کا انتخاب کرنا چاہیے، جو جسم کو ضروری توانائی، وٹامنز اور معدنیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا وزیراعظم صحت کارڈ کو اے آئی سے ہم آہنگ کرنے کا بڑا فیصلہ
چاول کی غذائیت اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس کا کردار:
چاول دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا اناج ہے جو انسانی جسم کو 15 سے زائد ضروری غذائی اجزا فراہم کرتا ہے۔ ان غذائی اجزا میں کاربوہائیڈریٹس کے علاوہ وٹامن بی 6، تھایامین، نیاسین، میگنیشیم، فاسفورس اور سیلینیم نمایاں طور پر شامل ہیں۔
ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ چاول میں موجود پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس انسانی جسم میں آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے جسم کو دیر تک اور مسلسل توانائی ملتی رہتی ہے اور انسان کو بار بار بھوک کا احساس نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ چاول قدرتی طور پر گلوٹن فری ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ان افراد کے لیے ایک بہترین متبادل ثابت ہوتے ہیں جنہیں گندم یا جَو سے الرجی یا ہاضمے کی شکایت ہوتی ہے۔ چاول ایک سستی، آسان اور ہر جگہ دستیاب غذا ہے، تاہم اسے زیادہ صحت بخش بنانے کے لیے ہمیشہ دال، سبزیوں اور پروٹین کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا چاہیے۔
مقدار کا درست تعین اور پلیٹ کا متوازن فارمولا:
وزن پر قابو رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک وقت کے کھانے میں پکے ہوئے چاولوں کی مقدار آدھے کپ سے ایک کپ تک محدود رکھی جائے۔ اس مقصد کے لیے بڑی پلیٹ کے بجائے چھوٹے پیالے کا استعمال زیادہ مفید رہتا ہے۔
غذائی ماہرین کی ہدایت کے مطابق اپنی پلیٹ کو اس انداز میں ترتیب دیں کہ اس کا آدھا حصہ فائبر سے بھرپور سبزیوں پر مشتمل ہو، ایک چوتھائی حصہ کم چکنائی والے پروٹین جیسے کہ مچھلی، چکن، انڈا یا دالوں پر مبنی ہو، جبکہ باقی ماندہ صرف ایک چوتھائی حصہ چاولوں کے لیے مختص کیا جائے۔
کُک اینڈ کول طریقہ، قسم کا انتخاب اور پکانے کا درست انداز:
چاولوں کو وزن کم کرنے کے لیے مفید بنانے میں “کُک اینڈ کول” طریقہ کار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت چاولوں کو پکانے کے بعد 12 سے 24 گھنٹے کے لیے فریج میں رکھ دیا جاتا ہے۔ اس عمل سے چاول میں موجود نشاستہ ریزسٹنٹ اسٹارچ میں تبدیل ہو جاتا ہے جو بہت آہستہ ہضم ہوتا ہے اور وزن کنٹرول رکھنے میں مدد دیتا ہے، اور ان چاولوں کو بعد میں دوبارہ گرم کر کے باآسانی کھایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں صحت سہولت پروگرام بحال، وفاقی وزیر صحت نے بڑے اعلانات کر دیے
علاوہ ازیں، جہاں تک ممکن ہو سکے سفید چاولوں کے بجائے براؤن، ریڈ یا بلیک رائس کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ یہ کم ریفائنڈ ہوتے ہیں اور ان کے استعمال سے پیٹ دیر تک بھرے رہنے کا احساس رہتا ہے۔ وزن پر قابو رکھنے کے لیے فرائیڈ رائس یا زیادہ تیل، گھی اور بھاری گریوی والے چاولوں کے بجائے ہمیشہ ابلے ہوئے یا بھاپ میں پکے ہوئے چاولوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔




