آزاد کشمیر کے فسادی جتھے کا گرفتار کارندہ، پرتشدد کارروائیوں اور کالعدم ٹولے کے حوالے سے ہوشربا انکشافات

آزاد کشمیر کے امن کے درپے فسادی جتھے کے پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا ایک اور اہم ثبوت منظرِ عام پر آ گیا ہے۔ فسادی جتھے کے گرفتار کارندے جواد مظفر نے اپنی پُرتشدد کارروائیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں، جن سے اس گروہ کی مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب ہوتی ہیں۔

گرفتار کارندے کے ہوشربا انکشافات اور اعترافِ جرم:

گرفتار کارندے جواد مظفر نے اعتراف کیا کہ گزشتہ سال جب کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے جلوس ماڈل ٹاؤن سے مظفرآباد کی طرف گامزن تھا تو وہ بھی اس جلوس میں موجود تھا۔ اس دوران انہوں نے چمیاٹی مظفرآباد میں پولیس پر حملہ کرکے شدید تشدد کیا جس کے نتیجے میں کئی اہلکار شہید ہو گئے۔ اس اشتعال انگیزی کے دوران ان کے پاس ٹمبر کے ڈنڈے تھے جبکہ بہت سے کارکن آتشیں ہتھیاروں سے مسلح بھی تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایکشن کمیٹی سے تعلق اور گرفتاری کی خبروں سے متعلق احمد مغل کی وضاحت

گرفتار کارندے کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی جانب سے کیے جانے والے اشتعال انگیز بیانات اور تقاریر ہمیشہ نوجوانوں کو پُرتشدد کارروائیوں کی طرف راغب کرتی ہیں۔ اسی دہشتگرد قیادت کے گمراہ کن بیانیے کے نتیجے میں وہ اور اس کے ساتھی پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہوئے، جس کے بعد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔

نوجوانوں کے لیے اہم اپیل اور ندامت کا اظہار:

گرفتار کارندے نے اپنے کیے گئے جرم پر دلی شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے دیگر تمام نوجوانوں اور شہریوں سے پُرخلوص اپیل کی ہے کہ وہ اس فسادی جتھے اور کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی جیسے فتنہ پرور مشتعل جتھے سے خود بھی دور رہیں اور دوسرے نوجوانوں کو بھی اس سے بچائیں۔