روزمرہ کی 6 عام عادات جو ڈپریشن کا خطرہ بڑھاتی ہیں!

موجودہ دور میں ڈپریشن ایک ایسا مرض بن چکا ہے جو نہایت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سے نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی صحت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اس بات سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کی روزمرہ کی چند بظاہر معمولی اور عام عادات ہی انہیں آہستہ آہستہ اس سنگین ذہنی عارضے کی طرف دھکیل رہی ہوتی ہیں۔ طبی جریدوں میں شائع ہونے والی مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق ایسی 6 نمایاں عادات موجود ہیں جو ڈپریشن کا خطرہ انتہائی درجے تک بڑھا دیتی ہیں۔

الٹرا پراسیس غذاؤں کا بے تحاشا استعمال اور اکیلا رہنا:

اس فہرست میں سب سے پہلی عادت الٹرا پراسیس غذاؤں کا بے تحاشا استعمال ہے، جس میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، انسٹنٹ نوڈلز اور میٹھے مشروبات شامل ہیں۔ یہ غذائیں بالخصوص درمیانی عمر کے افراد کی دماغی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ناقص غذا کا استعمال براہِ راست ڈپریشن کا باعث بنتا ہے، جبکہ اس کے برعکس ‘امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن’ کے مطابق ایک متوازن اور اچھی غذا کے ذریعے ڈپریشن کے خطرے کو باآسانی کم کیا جا سکتا ہے۔

دوسری نقصان دہ عادت بہت زیادہ اکیلے وقت گزارنا ہے۔ اگرچہ کچھ دیر تنہائی میں وقت گزارنا ذہنی سکون کے لیے مفید ہو سکتا ہے، لیکن حد سے زیادہ اکیلا رہنا خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق دوستوں اور اپنے اہلخانہ کے ساتھ مضبوط تعلقات اور مسلسل رابطے قائم رکھنے سے ڈپریشن کی علامات پر قابو پانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مخصوص غذائی پابندیوں، ڈائٹس سے ڈپریشن بڑھنے کا انکشاف

سکرین کابہت زیادہ استعمال اور منفی صحبت کے اثرات:

تیسری عادت سکرین کا حد سے زیادہ استعمال ہے، جہاں اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ، ٹیلی ویژن اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز پر گھنٹوں وقت گزارنا یا ایک ہی وقت میں کئی سکرینز کا استعمال کرنا اب روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ طبی رپورٹس کے مطابق ڈیجیٹل ڈیوائسز پر ضرورت سے زیادہ وقت بتانے سے ڈپریشن اور سماجی انزائٹی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چوتھی عادت منفی سوچ رکھنے والے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا ہے؛ ایسے افراد کے ساتھ وقت گزارنے سے جو منفی خیالات اور مایوسی پھیلانے کے عادی ہوں، انسان کی اپنی ذہنی صحت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور وہ خود بھی مایوسی کا شکار ہونے لگتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مثبت سوچ رکھنے والے لوگوں کی سنگت میں رہنے سے ڈپریشن سے بچاؤ ممکن ہو جاتا ہے۔

رات گئے تک جاگنا اور سست طرزِ زندگی کے نقصانات:

پانچویں عادت رات گئے تک جاگنے کی ہے، کیونکہ جو افراد رات دیر تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں ان کے ذہن پر منفی خیالات کا غلبہ زیادہ رہتا ہے، جو رفتہ رفتہ ڈپریشن کی خطرناک علامات کا روپ دھار لیتے ہیں۔ اس کے برعکس رات کو وقت پر سونے اور صبح جلدی بیدار ہونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ کافی حد تک کم پایا جاتا ہے۔ چھٹی اور آخری عادت سست طرزِ زندگی اور سارا دن بیٹھے رہنا ہے۔ دن کا زیادہ تر حصہ بیٹھ کر گزارنے سے ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جبکہ جسمانی طور پر متحرک رہنے پر دماغ ایسے مفید کیمیکلز خارج کرتا ہے جو موڈ کو خوشگوار بناتے اور ڈپریشن کو کم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس سست طرزِ زندگی کی وجہ سے یہ کیمیکلز کم بنتے ہیں جس سے ڈپریشن کی علامات مزید نمایاں ہو جاتی ہیں۔

(نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، اور کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔)