’’سکول ٹیچر کے خوف نے واپس آنے نہیں دیا‘‘66سال بعد گھر آنیوالے بزرگ کی انوکھی کہانی

11سال کی عمر میں سکول ٹیچر کے خوف سے گھر چھوڑنے والے سندیس نے 66سال بعد آزادکشمیر واپسی پر برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں انوکھی کہانی سنادی ہے اور حیران کن انکشافات کئے ہیں۔

سندیس گزشتہ ہفتہ آزادکشمیر کے ضلع جہلم ویلی میں واقع اپنے گاؤں نوگراں پہنچے ہیں تو نہ صرف ان کی عمر 77برس ہو چکی تھی بلکہ ان کا نام بھی تبدیل ہو چکا تھا،وہ اب عبدالعزیز کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

66برس بعد جب وہ اپنے گاؤں پہنچے تو ان کے استقبال کے لیے والدین اور بہن بھائی موجود نہیں تھے کیونکہ اس طویل عرصے کے دوران وہ سب ہی اس دنیا سے جا چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ہٹیاں بالا: 66 سال قبل خاندان سے بچھڑا شہری نوگراں پہنچ گیا

سن 1960 میں سندیس کی عمر 11برس تھی اور وہ گوہر آباد سکول میں زیر تعلیم تھے۔ ان کے مطابق وہ اپنے ایک استاد کے ڈر سے گھر اور علاقہ چھوڑ گئے تھے۔

سندیس کے بھتیجے متین نے بتایا کہ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا والدین کو یہی کہتے ہوئے سنا کہ ان کے ایک بھائی سکول سے واپس گھر آئے تو انھوں نے بتایا کہ آج ٹیچر نے انہیں مارا ہے اور آج کے بعد وہ سکول نہیں جائیں گے۔

متین مزید کہتے ہیں کہ پرانا وقت تھا، سکول ٹیچر سے جا کر پوچھنا یا شکایت کرنا کافی مشکل سمجھا جاتا تھا۔ والدین نے صبر ہی کر لیا مگر یہاں بات ختم نہ ہوئی۔

وہ سکول ٹیچر اسی دن گھر بھی آئے اور انہوں نے گھر پہنچ کر سندیس کو مزید ڈانٹا اور والدین کو بتایا کہ آپ کا بچہ سکول نہیں آتا اور نہ ہی یہ اچھی طرح تعلیم حاصل کرتا ہے۔

ان کی یہ باتیں سنتے ہی سندیس گھر سے نکل گئے۔ ہمارے گاؤں سے نکلتے ہی آدھے گھنٹے کی مسافت پر ایک چھوٹا سا بازار ہوتا تھا، وہاں کچھ لوگوں نے سندیس کو آخری بار دیکھا۔

اس دوران سندیس گھر چھوڑ کر صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد پہنچ گئے تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے اس کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں محنت مزدوری کی اور اپنی زندگی کا سفر جاری رکھادوسری جانب نوگراں میں ان کے گھر والے ان کی راہ تکتے تکتے دنیا سے چلے گئے۔

سندیس نے انٹرویو میں بتایا کہ میں نے گھر سے نکلنے کے بعد ایک ٹرک ڈرائیور کو کہا کہ مجھے کہیں مزدوری پر لگا دیں تو اس نے مجھے ساتھ بٹھایا اور فیصل آباد جا کر چھوڑ دیا۔

بزرگ کا کہنا ہے کہ وہ فیصل آباد میں کچھ عرصے تک محنت مزدوری کرتے رہے مگر سکول ٹیچر کے خوف سے کبھی گھر واپس آنے کا نہیں سوچ سکے۔

سندیس زیادہ وقت فیصل آباد میں بھی نہیں رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اس شہر سے رحیم یار خان میں ظاہر انٹرچینج کے قریب واقع ایک گاؤں خان پورا کٹورا چلے گئے اور انہیں وہاں کے رہائشیوں سعید احمد اور رفیق احمد نے ملازمت پر رکھ لیا۔

سکول ٹیچر کا خیال آتا توگھر آنے کا خیال ترک کر دیتا تھا

سندیس نے بتایا کہ میں وہاں ان ہی کا ہو کر رہ گیا، مجھے پہلے گھر کی یاد آتی تھی مگر جب سکول ٹیچر کا خیال ذہن میں آتا تھا تو میں واپس گھر آنے کا خیال ترک کر دیتا تھا۔

سندیس نے مزید بتایا کہ سعید احمد نے انہیں لاوارث ظاہر نہیں کیا کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کا شناختی کارڈ بھی نہیں بن سکتا تھا۔

سندیس کا نام شناختی کارڈ میں نام بدل کر عبدالعزیز لکھوایا گیا لیکن یہاں ان کی پریشانی ختم نہیں ہوئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسی گاؤں میں ان کی منگنی بھی ہوئی تھی لیکن شادی نہ ہو سکی۔

اسی دوران سن 2005 میں آزادکشمیر میں زلزلے نے بڑی تباہی مچائی اور ہزاروں افراد جاں بحق ہو گئے۔ سندیس کا رابطہ اپنے خاندان سے نہیں تھا اور وہ سمجھے کہ شاید اس قدرتی آفت میں وہ بھی جاں بحق ہو گئے ہوں گے توا ن کا کہنا ہے میں نے وہاں اپنی کمائی سے ایک مسجد تعمیر کر دی تاکہ میرے والدین کو ثواب پہنچتا رہے۔

گھر واپسی کیسے ہوئی؟

سندیس کی اپنے گھر واپسی بھی کسی دلچسپ کہانی سے کم نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ رحیم یار خان میں واقع گاؤں میں وہ اکثر رشید نامی شخص کی دکان پر جا کر بیٹھا کرتے تھے اور انہیں بتاتے تھے کہ ان کا تعلق آزادکشمیر سے ہے۔

میں نے انہیں اپنی کہانی سنائی ہوئی تھی کہ میں آج تک اپنے گھر واپس نہیں گیا۔ اسی دکان پر ایک آزاد کشمیر کا رہائشی ڈرائیور رمضان بھی آتا تھا۔

سندیس کہتے ہیں کہ رشید نے اس ڈرائیور کو کہا کہ آپ بھی کشمیری ہیں اور یہ بابا (سندیس) بھی کشمیری ہیں، انہیں ان کے گھر والوں سے ملوا دیں۔

ان کے مطابق کچھ عرصے بعد رمضان نے رشید کو بتایا کہ انہوں نے گھر والوں کو ڈھونڈ لیا ہے۔

سندیس نے بتایا کہ رمضان نے کہا کہ اگر عبدالعزیز گھر واپس جانا چاہتے ہیں تو میں ان کو ان کے اہلخانہ سے ملوا سکتا ہوں۔

اس کے بعد رمضان نے ہی رشید اور سندیس کے گھر والوں کا آپس میں رابطہ کروایا اور پھر سندیس کے بھتیجے رشید کے بتائے ہوئے پتے پر اپنے چچا کو لینے آ پہنچے۔

دوسری جانب سندیس کے بھتیجے متین کہتے ہیں کہ ڈرائیور رمضان مظفرآباد کے ہی علاقے لواسی کے رہائشی ہیں اور وہ جب چچا سے مل کر مظفر آباد آئے تو دستیاب معلومات کی مدد سے خاندان تک پہنچ گئے۔

وہ ہم تک یہ خبر لائے کہ سندیس زندہ ہیں اور رحیم یار خان کے علاقے خان پور کٹورا میں موجود ہیں۔ اس کے بعد ہم نے وہاں پہنچ کر چچا سندیس سے ملاقات کی اور ملاقات کے بعد ہم نے سعید خان کے اہلخانہ سے چچا کو ساتھ لانے کی اجازت لی۔

سندیس کہتے ہیں کہ جب میرے خاندان کے لوگ مجھے ملنے وہاں پہنچے، تو پہلے میں نے بھائیوں اور والدین کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ سب دنیا سے چلے گئے ہیں، لیکن کچھ رشتے دار اب بھی زندہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وادی نیلم،پہاڑوں پر سردی کا راج ،بکروالوں نے ڈیرے سمیٹ لئے ، واپسی شروع

میں اپنے بھتیجے متین کے ساتھ واپس گھر جانے کے لیے اس شرط پر تیار ہوا کہ سکول ٹیچر اب مجھے ڈرانے گھر نہیں آئے گا۔

خیر ہم دوسرے دن نوگراں پہنچ گئے۔ کچھ جگہوں کو میں نے پہچان لیا، مگر آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے علاقہ بھی بدل چکا ہے تاہم مجھے اپنی زمین یاد تھی اور میں نے اپنے گھر والی جگہ بھی پہچان لی تھی۔

گھر واپس آنے پر جہاں سندیس خوش ہیں، وہیں انھیں اپنوں کے بچھڑ جانے کا دُکھ بھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے گھر واپس آنے کی امید تھی لیکن مشکل لگتا تھا کہ ایسا کیسے ہوگا؟ خیر، میری قسمت میں گھر واپس لوٹنا تھا اور میں واپس آگیا ہوں، لیکن مجھے زندگی بھر اپنے والدین اور بھائیوں سے نہ ملنے کا دکھ رہے گا۔

میرے کلاس فیلوز تو مجھے کوئی نہیں مل سکے اور مجھے اب کچھ یاد بھی نہیں رہا، مگر میرے قریبی رشتہ داروں میں سے کچھ لوگ ہیں جو زندہ ہیں اور انھیں میں نام سے جانتا ہوں۔