جماعت اسلامی جموں وکشمیر کا حافظ ادریس کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار

سرینگر(کشمیر ڈیجیٹل) امیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر غلام محمد بٹ، نائب امراء محمد عبداللہ وانی، فہیم محمد رمضان اور سیکرٹری جنرل شبیر احمد فلاحی نے جماعت اسلامی پاکستان کے مربی، قائد اور بزرگ رہنما، بانیٔ جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے اولین ساتھیوں اور دستِ راست میں شمار ہونے والے حافظ محمد ادریس کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمٰن، قیم بشیر احمد جنجوعہ ، کارکنان اور مرحوم کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کیلئے دعا کی ہے۔

جماعت اسلامی جموں وکشمیر کی قیادت نے اپنے مشترکہ تعزیتی بیان میں کہا کہ حافظ محمد ادریس عنفوانِ شباب میں جس نظریے اور دعوت کا علم لیکر اٹھے، پوری زندگی اسی سے وفاداری نبھاتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتیں اس تحریک کیلئے وقف کردیں۔ انہوں نے دعوتِ دین، انسانی اقدار کے فروغ، معاشرتی فلاح و بہبود اور محروم طبقات کی بہتری کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں اور آخری سانس تک اپنے نظریے اور مشن پر ثابت قدم رہے۔ ان کی زندگی ایثار، اخلاص، استقامت، نظم و ضبط اور اعلیٰ اخلاق و کردار کا عملی نمونہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ حافظ محمد ادریس ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے جماعت اسلامی کی فکری و تحریکی روایت کو اپنی عملی زندگی سے آگے بڑھایا۔ ان کی رحلت محض ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ بلاشبہ تحریک اسلامی کا ایک عہد تمام ہوا۔ حالیہ برسوں میں جماعت اسلامی پاکستان کی صفِ اول کی متعدد شخصیات، جن میں سابق امرائے جماعت میاں طفیل محمدؒ اور سید منور حسنؒ، معروف دانشور پروفیسر خورشید احمدؒ، عبدالغفار عزیزؒ، امیرالعظیمؒ، میاں مقصود احمدؒ اور اب حافظ محمد ادریسؒ شامل ہیں، یکے بعد دیگرے دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ ان نابغۂ روزگار شخصیات کی جدائی نے جماعت اسلامی کے وابستگان ہی کو نہیں بلکہ ان کے افکار، کردار اور خدمات سے واقف وسیع حلقوں کو بھی غمزدہ کیا ہے۔

جماعت اسلامی جموں وکشمیر کی قیادت نے کہا کہ یہ تحریک کی ایک بڑی کامیابی ہے کہ اس سے وابستہ افراد کو اپنی صلاحیتیں خدمتِ دین، انسانیت اور معاشرے کی فلاح کیلئے بروئے کار لانے کا موقع ملا۔ حافظ محمد ادریس سمیت ان بزرگ رہنماؤں نے اپنے کردار و عمل سے ایسی روشن روایات قائم کیں جنہیں آئندہ نسلوں کیلئے مشعلِ راہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان کی جدائی ایک بڑا خلا ہے، تاہم ان کی فکری و اخلاقی میراث تحریک کے کارکنان کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بنی رہے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ جماعت اسلامی پاکستان سے وابستہ قیادت اور کارکنان ہمیشہ اہلِ کشمیر کے دکھ درد میں شریک رہے ہیں۔ حافظ محمد ادریس بھی اپنے ہم عصر رہنماؤں کی طرح مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، پائیدار اور پرامن حل کے بھرپور حامی تھے۔ وہ اس اصولی مؤقف پر زندگی بھر قائم رہے کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہیے، جس کا عالمی برادری نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔

جماعت اسلامی جموں وکشمیر کی قیادت نے حافظ محمد ادریس کے انتقال کو تحریک اسلامی اور جماعت اسلامی پاکستان کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی دینی، فکری، دعوتی اور سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ “وہ علم و عرفان اور اخلاص و کردار کا حسین امتزاج تھے” جن پر فی زمانہ فخر کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے انجینئر حافظ نعیم الرحمٰن، جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت و کارکنان اور مرحوم کے تمام اہل خانہ کے ساتھ پھر ایکبار گہری تعزیت و یکجہتی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حافظ محمد ادریس کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے، پسماندگان کو صبرِ جمیل دے اور جماعت اسلامی کو اپنے ان بزرگ قائدین کا بہترین نعم البدل عطا فرمائیں جو یکے بعد دیگرے اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔