امریکا کے بعدکینیڈا نے بھی ایران کے 10 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جس میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندرمومنی بھی شامل ہیں۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کے ظالمانہ جبر میں کردار ادا کرنے پر ایران کے 10 افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی فوجداری عدالت ٹرمپ کے نشانے پر،پابندیاں عائد کرنے کی تیاریاں
انیتا آنند نے ایک بیان میں کہا کہ کینیڈا ایرانی حکومت کے قابلِ مذمت اقدامات کے خلاف ردعمل دینے کے لیے اپنے اختیار میں موجود ہر ذریعہ استعمال کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات میں عالمی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے لے کر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب شامل ہے۔
بیان کے مطابق پابندیوں کا نشانہ ایران کے اعلیٰ سکیورٹی اور حکومتی عہدیداروں کے علاوہ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے وہ ادارے بھی ہیں جو ’ڈیجیٹل جبر‘ میں ملوث ہیں۔ ان میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا نے ایران کیخلاف پابندیوں اورناکہ بندی کو نیا ہتھیار بنایا ہے ،گزشتہ روزامریکی پابندیوں کے باعث ہی ایران کی مسقط کیلئے پروازیں منسوخ ہو گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر کی جنرل اسمبلی میں دبنگ تقریر امریکا کو ہضم نہ ہوئی، وفد کا واک آئوٹ
ادھرمتحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے ایران کے بینک ملی کو ملک میں کام کرنے سے روک دیا اور وجہ ضابطہ جاتی تقاضوں کی خلاف ورزی بتائی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بینک 1969 سے یو اے ای میں سرگرم تھا اور امارات کے مختلف شہروں میں اس کی 7 شاخیں تھیں۔ یو اے ای کا یہ فیصلہ اگست میں ایران کے ساتھ تجارت، تجارتی تبادلوں اور مالی لین دین معطل کرنے کے اقدام کے بعد سامنے آیا۔




