سلام آباد:اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈرز نے عمران خان سے ملاقات سے انکار کیا۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ تحریک انصاف کو کئی بار مذاکرات کی دعوت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے اپوزیشن کے ارکان ملتے رہتے ہیں اور کوئی دوچار نہیں کافیوں سے میری ملاقات ہوتی ہے اور سب آ کر خواہشمند ہوتے ہیں کوئی حالات بہتر کئے جائیں کوئی ہماری میٹنگ کرائیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج،حکومت کا موٹروے سمیت اہم شاہرات بند کرنے کا فیصلہ
ایشو یہ ہے کہ جو ممبر مجھے ملنے آتا ہے اس پر ایک مہم شروع ہو جاتی ہے کہ اسپیکر سے کیوں ملا، ہر ممبر کا کوئی نہ کوئی ایشو اسپیکر کے ساتھ ہوتا ہے اور اسپیکر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے وزیر داخلہ محسن نقوی کا فون آیا انہوں نے کہا کہ ہم میٹنگ کرانا چاہتے ہیں کہ ان کے بھتیجے کو بھیج دیں، بھتیجے کو جب بھیجنے لگے تو عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ وہ نہیں جائے گا۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے سوال پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تین اہم شخصیات نے پی ٹی آئی قیادت کو کانفرنس کال کے ذریعے بانی سے ملاقات کی پیشکش کی تھی لیکن سوشل میڈیا کے خوف سے نہ اپوزیشن لیڈر نے حامی بھری اور نہ ہی بیرسٹر گوہر کو ملاقات کی اجازت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ہم تین لوگ لائن پر تھے، میں، وزیر داخلہ اور بیرسٹر گوہر بات کر رہے تھے، ان کے پاس اسد قیصر سمیت کچھ اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ میں نے کہاکہ آپ بھی چلے جائیں آپ کی ملاقات ہو جائے گی لیکن ان کو بھی روک لیا گیا کہ نہیں آپ نہیں جائیں گے۔
پھر یہ کہا گیا کہ سوشل میڈیا کہے گا کہ وہ کیوں چلا گیا تو میں نے کہا کہ لیڈر آف دی اپوزیشن کو بھیج دیں، سینٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز کو بھیج دیں۔
اس لیے کہ وہ تو اس پارٹی کا حصہ نہیں ہیں ان کو تو کوئی نہیں روک سکتا۔ اپوزیشن لیڈرز نے کہا کہ نہیں جی ہم پر سوشل میڈیا بہت لعن طعن کرے گا اور ہمارے اوپر تنقید کی جائے گی، وہ بھی جانے کو نہ ہوئے۔
اس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے کہ اتنے مواقع دیئے جائیں، ہم تینوں لوگ لائن پر تھے اور کانفرنس کال تھی، ہوتا یہی ہے کہ یہ کیوں گیا اور یہ کیوں چاہ رہا ہے کہ میں جاؤں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی بند گلی میں نہ جائے،اسلام آباد پر دھاوا بولنے پر سختی سے نمٹا جائیگا،وزیر داخلہ
ایاز صادق نے کہا کہ ہر ممبر سوشل میڈیا سے ڈرتا ہے ہر ممبر سوچتا ہے کہ میں گیا تو سوشل میڈیا میرے خلاف ہو جائے گا کہ یہ کیوں گیا۔
عمران خان سے ملاقات کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈرز نے جانے سے انکار کیا، اس بات کی تصدیق وزیر داخلہ محسن نقوی اور خود بیرسٹر گوہر بھی کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں بیرسٹر گوہر کو الزام نہیں دیتا کیونکہ وہ کوشش کرتے ہیں لیکن ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔




