اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شوہر محض اس بنیاد پر حقِ مہر کی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا کہ بطور مہر بیوی کے نام کرنے کے لیے طے کی گئی غیر منقولہ جائیداد بعد میں منتقل نہیں ہو سکی، ایسی صورت میں بیوی جائیداد کی طے شدہ قیمت کی حق دار ہوگی۔
مسلم عائلی قانون سے متعلق اہم فیصلے میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل چار رکنی بینچ نے یہ بھی واضح کیا کہ نکاح محض عام دیوانی یا تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ اپنی نوعیت کا منفرد قانونی ادارہ ہے جبکہ حق مہر بیوی کا آزاد، لازمی اور قابلِ نفاذ مالی حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خلع سے متعلق اپیل،سپریم کورٹ ججز کے اہم ریمارکس، معاملہ مریم نواز کے سامنے رکھنے کا کہہ دیا
مرکزی فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا، جبکہ جسٹس شاہد بلال حسن نے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے الگ اضافی نوٹ تحریر کیاجس میں نکاح نامے کی قانونی اور شہادتی حیثیت پر مزید زور دیا گیا۔
عدالت کے سامنے اہم قانونی سوالات یہ تھے کہ آیا نکاح محض سول کنٹریکٹ ہے؟، حقِ مہر شادی کا معاوضہ ہے یا الگ قانونی ذمہ داری؟، جائیداد بطور مہر دینے کی قانونی حیثیت کیا ہے؟، نکاح نامہ خود نکاح کا معاہدہ ہے یا اس کا سرکاری ریکارڈ؟، اور نکاح نامے میں حقِ مہر سے متعلق مبہم اندراجات کو کس طرح سمجھا جائے؟
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نکاح اپنی نوعیت کا منفرد قانونی ادارہ ہے جو ایجاب و قبول سے وجود میں آتا ہےلیکن اس کے حقوق و ذمہ داریاں اسلامی قانون، ملکی قانون اور آئینی اصولوں کے تابع رہتی ہیں۔
عدالت نے حقِ مہر کو بیوی کی قیمت قرار دینے کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقِ مہر شوہر پر عائد ایک لازمی قانونی ذمہ داری اور بیوی کا خصوصی مالی حق ہے۔
نکاح نامے کے بارے میں عدالت نے کہا کہ نکاح خود درست ایجاب و قبول سے وجود میں آتا ہے، جبکہ نکاح نامہ اس معاہدے کا سرکاری اور بنیادی دستاویزی ثبوت ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ نکاح نامے میں درج اندراجات کے درست ہونے کا قانونی مفروضہ موجود ہوگا، تاہم یہ حتمی نہیں ہوگا۔ اگر کوئی اندراج مبہم، نامکمل، باہم متضاد ہو یا مضبوط شواہد سے ثابت ہو کہ وہ فریقین کے اصل معاہدے کی درست عکاسی نہیں کرتا تو عدالت دیگر قابلِ قبول شواہد کا جائزہ لے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خلع کا حق استعمال کرنا عورت کا آئینی حق ہے،سپریم کورٹ آف پاکستان
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نکاح نامے کے کالم 13 سے 16 کو الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط انداز میں پڑھا جائے گا۔
کالم 13 میں حقِ مہر درج کیا جاتا ہے، جو نقد رقم یا جائیداد دونوں پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ کالم 14 میں معجل اور مؤجل مہر کی تفصیل، کالم 15 میں نکاح کے وقت ادا شدہ مہر اور کالم 16 میں پورے یا کسی حصے کے عوض دی گئی جائیداد کی تفصیل درج ہوتی ہے۔
اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ فریقین کی نیت کا تعین بعد کے زبانی دعوؤں کی بنیاد پر نہیں بلکہ بنیادی طور پر نکاح نامے کو مجموعی طور پر پڑھ کر کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے قرار دیا کہ نکاح نامہ لازمی قانونی فارم ہے اور اس کے ہر کالم کا ایک مقصد ہے، لہٰذا ان اندراجات کو غیر اہم نہیں سمجھا جا سکتا۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے نکاح رجسٹرارز کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ کالم احتیاط سے مکمل کیے جائیں، جائیداد کی مکمل تفصیل اور قیمت درج کی جائے، اہم شرائط دستخط سے پہلے فریقین کو پڑھ کر سنائی یا سمجھائی جائیں اور کسی کالم کو بلاوجہ خالی نہ چھوڑا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی آنکھ نارمل ،ڈاکٹرز روزانہ چیک اپ کرتے ہیں، سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع
سپریم کورٹ نے انفرادی مقدمات کے حقائق پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا اور ہدایت کی کہ تمام مقدمات کو طے کردہ قانونی اصولوں کی روشنی میں میرٹ پر فیصلے کے لیے متعلقہ بینچوں کے سامنے مقرر کیا جائے۔




