ایرانی ایئرلائنز کا آپریشن دو دن میں بند ہو جائیگا، امریکا،پروازیں جاری رہینگی، تہران

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی ایئرلائنز کے لیے 23 ستمبر سے دنیا بھر میں اپنا فضائی آپریشن جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔

سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ دو روز میں تمام ایرانی ایئرلائنز کو عالمی سطح پر کام کرنے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:مسعود پزشکیان کا پاکستان سے رابطے بڑھانے پر زور، پاک ایران نئی گزرگاہ قائم کرنے پر متفق

انھوں نے واضح کیا کہ امریکی پابندیوں کا دائرہ صرف ایرانی فضائی کمپنیوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ بیرون ملک موجود وہ ادارے بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں جو ایرانی طیاروں کو سہولیات فراہم کریں گے۔

امریکی وزیر خزانہ کے بقول اگر کوئی ہوائی اڈہ ایرانی طیارے کو ایندھن فراہم کرتا ہے یا اسے لینڈنگ کی سہولت دیتا ہے تو متعلقہ ادارے کو امریکی مالیاتی نظام سے باہر کیے جانے کا خطرہ ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسی طرح ایرانی ایئرلائنز کے ٹکٹس فروخت کرنے والی کمپنیوں کو بھی امریکی پابندیوں کے تحت سخت کارروائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ادھرایران کی سرکاری فضائی کمپنی ایران ایئر نے امریکی پابندیوں کی دھمکی کے باوجود عراق کے شہر نجف کے لیے پروازیں جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

عالمی میڈیا کے مطابق ایران ایئر کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران، مشہد اور اصفہان سے عراق کے شہر نجف جانے والی پروازیں پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق چلتی رہیں گی۔

ایران ایئر کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی دباؤ کے باوجود نجف کے لیے فضائی رابطہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے نیویارک میں ملاقات ہوسکتی ہے، ٹرمپ

خیال رہے کہ نجف وہ اہم مذہبی مرکز ہے جہاں ایران سے ہزاروں زائرین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مزار پر حاضری کے لیے آتے ہیں۔

اس لیے ایران اور عراق کے درمیان فضائی آمدورفت میں اس روٹ کی خاص اہمیت ہے۔