میرپور ( کشمیر ڈیجیٹل) میرپورآزاد کشمیر میں شادی بیاہ کی تقریبات میں کھانوں کی بھرمار، فضول رسومات اور غیر ضروری اخراجات کے خاتمے کیلئے ون ڈش نظام نافذ کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں شادی کی تقریبات پر بے جا اخراجات غریب اور متوسط طبقے کیلئے شدید مالی مشکلات کا باعث بن رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی خاندان خوشی کی تقریب کو بوجھ سمجھنے پر مجبور ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شادی کی تقریبات پر بڑی پابندی، حکومت کا نیا کفایت شعاری حکم نامہ جاری
شہریوں کے مطابق شادی بیاہ کی تقریبات میں مختلف اقسام کے کھانے، مہنگے پکوان، متعدد ڈشیں، غیر ضروری سجاوٹ ودیگر رسومات پر بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں۔
معاشی حالات سے پریشان بہت سے والدین بچوں کی شادی کے اخراجات پورے کرنے کیلئے قرض لینے یا اپنی جمع پونجی خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کا اثر شہریوں کو طویل عرصے تک مالی مشکلات کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شادی ایک خوشی کا موقع ہے اور اسے نمود و نمائش اور مقابلے کی دوڑ بنانے کے بجائے سادگی سے منایا جانا چاہیے۔
ون ڈش نظام کے مؤثر نفاذ سے نہ صرف غیر ضروری اخراجات میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ معاشرے میں سادگی کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔
شہریوں نے حکومت آزادکشمیر اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش نظام نافذ کرنے کیلئے واضح اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:یورپی ممالک جانیوالےغیر ملکی شہریوں کیلئے سخت قوانین منظور
انکا کہنا ہے کہ صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ اس پر بلاامتیاز عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے تاکہ فضول خرچی اور غیر ضروری رسومات کی حوصلہ شکنی ہو اور کم آمدنی والے والدین بھی اپنے بچوں کی شادیاں عزت، وقار اور کم مالی بوجھ کے ساتھ کر سکیں۔




