خواجہ آصف

 نئے صوبے، پیپلزپارٹی کی دورخی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ہوں، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے موقف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات ہوتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے یا اس معاملے پر نرم گوشہ ظاہر کرتی ہےلیکن جب چار صوبوں کے بجائے متعدد صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کی جاتی ہے تو سندھودیش کی بات شروع کردی جاتی ہے۔

خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پیپلز پارٹی کی پالیسی کو دو رخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کے پیچھے کچھ اور دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان امیر صوبہ،مسائل کی آڑ میں انتشار پھیلانے والے محب وطن نہیں ،شہبازشریف

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سےفی الحال تفصیل میں نہیں جانا چاہتا تاہم کسی وقت مناسب موقع آنے پر سب بتا دوں گا ۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اصل معاملہ کسی مخصوص صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام سے زیادہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے کو عوام کی ضروریات کے مطابق بہتر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ایک آئینی اصول ہے جسے 18ویں ترمیم کے ذریعے طے کیا گیا تھا تاہم اس اصول کا مکمل احترام نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اختیارات کی منتقلی کے آئینی اصول پر دیانت داری کے ساتھ عملدرآمد کیا جائے۔

وزیر دفاع نے کہاکہ جمہوریت صرف پارلیمان یا صوبائی حکومتوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے نچلی سطح یعنی عوام کی دہلیز تک مضبوط ہونا چاہیے تاکہ عام شہری بھی جمہوری نظام کے ثمرات سے حقیقی معنوں میں مستفید ہوسکے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بحث صرف اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ نئے انتظامی ڈھانچے کو صوبہ کہا جائے یا انتظامی یونٹ۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ فیصلہ سازی اور حکومتی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے تاکہ انتظامیہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرسکے۔

یہ بھی پڑھیں:قومی اتفاق رائے سے نئے صوبے بنائے جائیں، پاکستان بار کونسل، قرارداد متفقہ منظور

وزیر دفاع نے کہاکہ ملک میں پہلے سے موجود 36 ڈویژن کو بھی انتظامی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے یا اس کے بجائے کوئی نیا انتظامی و جغرافیائی منصوبہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نام یا لیبل بنیادی مسئلہ نہیں اصل معاملہ اختیارات کی منتقلی ہے۔ صوبے بنائے جائیں یا انتظامی یونٹس تشکیل دئیے جائیں، اختیارات کا ارتکاز ختم کرکے انہیں نچلی سطح تک منتقل کرنا اب ناگزیر ہوچکا ہے۔