کوئٹہ (کشمیر ڈیجیٹل)وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر بلوچ عوام کا حق ہے ۔
وزیراعظم شہبازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کی آڑ میں کوئی محب وطن بندوق نہیں اٹھا سکتا۔مسائل کا حل اور ترقی ہمارا فرض ہے کسی پر احسان نہیں ہے ۔
وزیراعظم شہبازشریف کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشتگردی سے زیادہ متاثر ہیں۔ مسائل حل کیلئے ڈائیلاگ اور منصفانہ وسائل کی تقسیم میں مضمر ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی سفیر کا بیان کشمیر کی تاریخی حیثیت مسخ کرنے کی کوشش، فیصل ممتاز راٹھور
وزیراعظم شہبازشریف نے مزید کہا کہ بلوچستان امیر صوبہ،مسائل کی آڑ میں انتشار پھیلانے والے محب وطن نہیں، ہم نے خونی سڑک کو پرامن سڑک بنانا ہے ۔
وزیراعظم شہبازشریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی بلوچستان کے مختلف حصوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بلوچستان پاکستان کا وہ علاقہ ہے جہاں دلیر بلوچ اور پشتون اقوام آباد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون قبائل کی تاریخ دلیری، مہمان نوازی اور رواداری جیسی عظیم روایات سے عبارت ہے، جنہیں تاریخ نے اپنے اوراق میں شاندار انداز میں محفوظ کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچ قبائیل کی روایت ہے کہ جب عزت و وقار کا معاملہ سامنے آئے تو غیرت پکار پکار کر کہتی ہے کہ کسی بھی قیمت پر عزت و وقار پر سودا نہیں کرنا چاہیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ثاقب مجید، راجہ ریاست،راجہ آصف، عمیرنعیم، وقارنور،ضیاء القمرکی کامیابی چیلنج
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان نیشنل ورکشاپ کا مقصد سرکاری بات کرنا نہیں بلکہ عوام کی بات سننا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا اور اس وقت بلوچستان کے مختلف حصوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ، ثقافت اور روایات پاکستان کے قومی تشخص کا اہم حصہ ہیں، جبکہ بلوچ اور پشتون عوام کی جرات، مہمان نوازی اور رواداری قابل فخر روایات ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پرنسلی اسٹیٹس نے بھی 1948، 1947 کے بعد پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا، یہ کوئی بندوق کی نوک پر نہیں ہوا بلکہ دل، دماغ اور اس عزم کی بنیاد پر ہو اتھا کہ پاکستان کا حصہ بن کر پاکستان کی ترقی و خوشحال میں شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ 1950، 1955 اور 1970میں بلوچستان میں جو واقعات ہوئے وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں، لیکن یہ بحث تاریخ کا حصہ رہے گی کہ ان واقعات کو ہمیں کس طور ہینڈل کرنا چاہیے تھا، کس طریقے سے ہمیں ان معاملات کو ڈائیلاگ کے ذریعے طے کرنا چاہیے تھا۔ بالآخر 1970میں پورا بلوچستان پاکستان کا حصہ بنا اور پاکستان کا چوتھا صوبہ کہلایا۔




