واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو امریکا کے لیے چھوٹا معاملہ قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر بڑی دھمکی دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان پر تبصرہ کیا جس میں وینس نے موجودہ صورتحال کو جنگ قرار دینے سے گریز کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا 370 سے زائد امریکی اور اسرائیلی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے تاہم وہ اسے فوجی تنازع قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ امریکا کیلئے چھوٹا معاملہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس سے پہلے بھی وینزویلا سمیت دیگر محاذوں پر کارروائیاں کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ موجودہ تنازع بھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے پک ایکس ماؤنٹین کو ممکنہ امریکی حملے کا ہدف قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اسے بہت جلد شدید حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہےتاہم انہوں نے حملے کے لیے کوئی حتمی تاریخ یا وقت نہیں بتایا۔
خیال رہے کہ پک ایکس ماؤنٹین ایران کے اہم جوہری مرکز نطنز کے قریب واقع ایک انتہائی مضبوط اور زیرِ زمین تنصیبات پر مشتمل مقام ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس پہاڑی کی گہرائی میں دو ٹنل کمپلیکس بنائے گئے ہیں جس کی وجہ سے یہ عام جوہری تنصیبات کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہدف سمجھا جاتا ہے۔
تجزیوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کمپلیکس کے حصے پہاڑ کے اندر انتہائی گہرائی میں موجود ہیں جس نے امریکی حملے کے ممکنہ طریقہ کار اور اس کے نتائج کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کی ایران جنگ پر ہنگامہ، کانگریس رکن ڈیلیا رامیرز نے ٹرمپ کو کھری کھری سنا دیں
خیال رہے کہ پک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی ٹرمپ کی تازہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران کی جوہری تنصیبات پہلے ہی امریکی اور اسرائیلی حملوں کا سامنا کر چکی ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نطنز کی یورینیم افزودگی کی تنصیب کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ ایران نے جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنوں اور معلومات تک رسائی پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔




