متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں پر اماراتی حلقوں کا اہم موقف سامنے آ گیا ہے۔
اماراتی ذرائع نے ان تمام دعوؤں اور افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں کسی بھی غیر ملکی کے خلاف کارروائی رنگ، نسل، مذہب یا مسلک کی بنیاد پر نہیں کی جاتی بلکہ تمام اقدامات صرف اور صرف قانون اور سیکیورٹی ضوابط کے مطابق عمل میں لائے جاتے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء اور تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، جس میں بعض صارفین نے پاکستانی شہریوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اگرچہ اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ یا سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم اماراتی حکومت کے قریبی سمجھے جانے والے بعض اہم سوشل میڈیا مبصرین اور تجزیہ کاروں نے رپورٹ میں پیش کیے گئے فرقہ وارانہ یا امتیازی پہلو کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب ، قطر اور یو اے ای کی درخواست پر ایران پر حملہ موخر کردیا، ٹرمپ کا اعلان
قوانین کا یکساں نفاذ اور کارروائی کی وجوہات:
اماراتی تجزیہ کاروں اور حلقوں کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں رہنے والے تمام رہائشیوں اور غیر ملکی شہریوں پر ملکی قوانین یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں اور کسی کے ساتھ بھی کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔ اماراتی حلقوں نے مزید وضاحت کی ہے کہ اگر کسی بھی غیر ملکی شہری کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جاتی ہے تو اس کا تعلق عموماً ویزا شرائط کی خلاف ورزی، امیگریشن قوانین، سیکیورٹی معاملات یا دیگر مقامی قانونی تقاضوں کو پورا نہ کرنے سے ہوتا ہے۔
وزارتِ داخلہ پاکستان کا موقف اور پاک یو اے ای تعلقات:
دوسری جانب، پاکستان کی وزارتِ داخلہ بھی اس حساس معاملے پر اپنا موقف واضح کر چکی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق، اگر کسی پاکستانی شہری کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے تو اس کا تعلق لازمی طور پر وہاں کے مقامی قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی سے ہو سکتا ہے۔ ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان انتہائی قریبی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات موجود ہیں، اور اس نوعیت کے تمام معاملات کو ہمیشہ قانونی اور سفارتی ذرائع سے ہی حل کیا جاتا ہے۔




