جماعت اسلامی کا 9اگست کو گورنر ہائوسز پر دھرنوں کا اعلان

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی نے ملک گیر احتجاج کیا، مختلف شہروں میں مظاہرے کئے گئے۔

اسلام آباد میں چُنگی نمبر 26 میں راستہ کھلوانے کے معاملے پر پولیس کا جماعت اسلامی کے کارکنوں سے تصادم ہوا، رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا پولیس جماعت اسلامی کے کارکنوں کو ہراساں کرنے کے بجائے اپنا کام کرے۔

یہ بھی پڑھیں:مذاکرات ناکام،گڈز ٹرانسپورٹرز کا غیرمعینہ مدت کیلئے ہڑتال کا اعلان

راولپنڈی، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے ، گوجرانوالا، ڈیرہ غازی خان، سرگودھا، ٹھٹہ، مٹیاری، شکارپور، خیرپور، کندھ کوٹ، ٹنڈوالہ یار، ایبٹ آباد، ملاکنڈ اور دیگر شہروں میں بھی احتجاج ہوا ، ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔

لاہور میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا سسٹم نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے۔

حافظ نعیم نے کہا 9 تاریخ کو آپ نے لاہور کے تخت کی طرف مارچ کرنا ہے، ہم سی ایم ہاؤس کی طرف مارچ کریں گے اور بیٹھ جائیں گے، دیگر صوبوں میں گورنر ہاؤسز کے سامنے تاریخی دھرنوں کا آغاز ہوگا۔

حافظ نعیم نے کہا انہوں نے پیٹرول کی قیمت بڑھائی اور ٹیکس بھی بڑھا دیا، جب قیمتیں کم ہوئیں تو انہوں نے قیمتیں کم نہیں کیں، یہ اب تک 8 ہزار ارب روپےکی لیوی وصول کرچکے ہیں، انہوں نے اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کی کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یومِ استحصالِ کشمیر: لبریشن سیل کے زیرِ اہتمام مظفرآباد میں عظیم الشان اور بڑی احتجاجی ریلی کا اہتمام

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت کو 225 روپے پر لایا جائے، انہوں نے لیوی کو ختم اور ٹیکسوں کو کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔