مظفرآباد: یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر دارالحکومت مظفرآباد میں کشمیر لبریشن سیل کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان اور بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔
اس احتجاجی ریلی میں سرکاری افسران، حریت رہنماؤں، وکلا، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور عام شہریوں نے انتہائی بھرپور انداز میں شرکت کی۔ یہ احتجاجی ریلی وزیراعظم سیکریٹریٹ مظفرآباد سے باضابطہ طور پر شروع ہوئی اور شہر کے روایتی راستوں سے ہوتی ہوئی یادگارِ شہداء پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔
بھارت مخالف نعرے بازی اور شرکا کے مطالبات:
ریلی میں موجود شرکا نے بھارت کے غاصبانہ قبضے اور مظالم کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور آزادیٔ کشمیر کے حق میں بلند آواز میں نعرے لگائے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے حق میں اور بھارتی اقدامات کے خلاف مختلف مطالبات درج تھے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست 2019 کا اقدام کشمیری عوام کے حقوق اور شناخت پر حملہ تھا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کو کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔
عالمی برادری پر زور اور شہدا کے لیے دعا:
مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے کیے جانے والے تمام اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارتی مظالم اور جابرانہ اقدامات کشمیریوں کے آزادی کے حوصلے کسی صورت پست نہیں کر سکتے اور کشمیری عوام اپنی جدوجہدِ آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مکمل پرعزم ہیں۔
اس موقع پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے فوری اور منصفانہ حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔ ریلی کے دوران پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کی جانب سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ ریلی کے اختتام پر شہدائے کشمیر کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصاً دعا کی گئی۔




