مظفرآباد : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026ء میں مظفرآباد کے اہم حلقہ کوٹلہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر بھاری اکثریت سے شاندار کامیابی حاصل کرنے والی رہنما ناہید نورین عارف نے ’کشمیر ڈیجیٹل‘ سے خصوصی گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اپنی اس تاریخی کامیابی اور حلقے کی نمائندگی کے حوالے سے اپنے عزم اور آئندہ کے ایجنڈے کا تفصیل سے اظہار کیا۔
اہلِ حلقہ کی جانب سے اعتماد کا اظہار کرنے پر ناہید نورین عارف نے تمام ووٹرز کا پرجوش انداز میں شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے اوپر مظفرآباد کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے کی ترقی اور فلاح و بہبود کی سنگین ذمہ داری عائد ہوئی ہے۔ ماضی میں بھی اسی حلقے میں سڑکوں، سکولوں اور کالجوں کی تعمیر و ترقی کے کام سرانجام دیے گئے تھے، مگر عدم توجہی کی وجہ سے اب یہ تمام ادارے اور انفراسٹرکچر خستہ حالی کا شکار ہو چکے ہیں، جن کی بحالی میری اولین ترجیح ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد ،2حلقوں کے نتائج مکمل آگئے، ن لیگ کی نورین عارف، پی پی کے بازل نقوی کامیاب
عوامی غيرت اور مخالفین کے ہتھکنڈوں کی ناکامی:
اپنی گفتگو کے دوران ناہید نورین عارف نے انتخابی مہم کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حلقہ کوٹلہ کے باضمیر لوگوں نے الیکشن کے موقع پر بے مثال غیرت اور پختہ سیاسی شعور کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مخالفین کی جانب سے ووٹرز کو خریدنے کے لیے کروڑوں روپے کی آفرز دی گئی تھیں اور ہر ممکن لالچ فراہم کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حلقے کے غیور اور غیرت مند عوام نے مخالفین کی اس بھاری آفر کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا اور تمام تر ترغیبات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وفا نبھائی۔ عوام کے اسی جرات مندانہ اور یکسوئی پر مبنی موقف کے باعث مسلم لیگ (ن) نے اس حلقے سے تاریخی کامیابی حاصل کی اور دشمنوں کے تمام تر ہتھکنڈے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
انتشار پسندی، سی سی ٹی وی کیمروں کا انکشاف اور انتظامیہ کا کردار:
حالیہ بدنظمی اور افراتفری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ناہید نورین عارف نے کہا کہ خطے میں انتشار اور بے امنی پھیلانے کا کام مخصوص سیاسی جماعتوں یعنی پی ٹی آئی اور استحکام پارٹی کے افراد نے کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی سی ٹی وی کیمروں نے تمام راز فاش کر دیے ہیں اور جن عناصر نے یہاں افراتفری اور سنسنی پھیلائی وہ واضح طور پر کیمروں کی ریکارڈنگ میں نظر آ چکے ہیں۔
انہوں نے مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پولیس و انتظامیہ اتنی بے بس نظر آئی کہ وہ محض دس بچوں کو بھی کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ ناہید نورین عارف نے اس بات کی بھی صراحت کی کہ حالیہ پیش آنے والے پرتشدد واقعات یا بدامنی میں عوامی ایکشن کمیٹی کا کسی قسم کا کوئی ہاتھ نہیں تھا بلکہ یہ سب مخصوص شریر عناصر کی کارروائی تھی۔




