پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے پارٹی کو محسن نقوی کا بیان نظرانداز کرنے کی ہدایت کردی جس کی تصدیق وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کردی ہے۔
نواز شریف نے موجودہ حالات میں حکومت اور ریاستی اداروں میں اتحاد کو وقت کی اشد ضرورت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:کوئی اور نہیں بس شیر،مریم نواز کا کامیابی پر خوشی کا اظہار
نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں پر واضح کیا کہ ملک کو درپیش معاشی، سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر ایسی کسی بھی صورتحال سے بچنا چاہیے جس سے اختلافات کا تاثر پیدا ہو۔
ذرائع کے مطابق سسٹم تباہ ہونے والے محسن نقوی کے بیان پر ن لیگ کی سینئر قیادت نے اپنے تحفظات نوازشریف تک پہنچائے جس پر نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رہے۔
دوسری طرف نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ درست ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے محسن نقوی کو جواب دینے سے منع کر دیا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ محسن نقوی کی گفتگو اور ان کا اندازِ بیان قابل اعتراض ہے اور مسلم لیگ (ن) کو اس پر شدید اختلاف ہے،محسن نقوی کی گفتگو بے معنی ہے اور اس کا کوئی سیاق و سباق نہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہاکہ ملک کے نظام میں کوئی خرابی نہیں بلکہ مسئلہ اس پر عمل درآمد کا ہے،اگر آئین اور موجودہ نظام کے مطابق عمل کیا جائے تو یہی نظام بہتر انداز میں نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام اور آئین موجود ہے اور اسی نظام نے پاکستان کو متحد رکھا ہوا ہے۔اگر نظام پر عمل نہ کیا جائے اور پھر یہ کہا جائے کہ نظام ناکام ہو چکا ہے تو اس سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے حکومت کو کسی قسم کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہاکہ کابینہ کے اجلاس میں کئی معاملات واضح ہو جائیں گے اور حکومتی موقف بھی سامنے آ جائےگا۔
یہ بھی پڑھیں:جہلم ویلی،ن لیگ، پی پی کے کارکنوں کا تھانہ میں تصادم،2اہلکار زخمی،20ملزمان گرفتار
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہاکہ اگر وزیراعظم محسن نقوی کو بلائیں گے تو وہ کیوں نہیں آئیں گے۔
مشیر برائے سیاسی امور نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینا چاہتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیاکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار کی ڈھائی، ڈھائی سال کی تقسیم کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔




