مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن سیل کے انچارج سردار عبدالشکور نے حلقہ ایل اے-30 میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار مبشر منیر اعوان کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر کو باضابطہ تحریری شکایت ارسال کرتے ہوئے بناؤ لنگاہ پولنگ اسٹیشن پر سنگین انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود بیلٹ باکس کو باہر منتقل کر دیا ہے اور پولنگ اسٹیشن کے احاطے سے باہر، پریذائیڈنگ افسر اور پولنگ ایجنٹس کی نگرانی سے دور بیلٹ پیپرز پر غیر قانونی طور پر مہریں لگائی جا رہی ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بیلٹ باکس کو پولنگ اسٹیشن سے باہر منتقل کرنا اور اس کے بعد منظم انداز میں بیلٹ پیپرز پر مہریں لگانا انتخابی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتخابی حکام کو موقع پر بھیجا جائے، بیلٹ باکس کو دوبارہ پولنگ اسٹیشن کے اندر منتقل کیا جائے، تمام بیلٹ پیپرز کو تحویل میں لے کر مکمل تحقیقات تک سیل کیا جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد اور جہلم ویلی میں انتخابات کا جوش و خروش: پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کا غیر معمولی رش
غیر قانونی طور پر لگائی گئی مہروں والے بیلٹ پیپرز کو گنتی سے خارج کیا جائے اور اس عمل میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔۔
پیپلز پارٹی کے ایجنٹس کو تین پولنگ اسٹیشنوں میں داخلے سے روک دیا،مسلم لیگ ن پر ٹھپے لگانے کاالزام
مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر الیکشن سیل نے حلقہ ایل اے 32 کے امیدوار اشفاق ظفر کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر کو ہنگامی شکایت ارسال کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولنگ اسٹیشن نمبر 48، 52 اور 54 پر پیپلز پارٹی کے باقاعدہ مقرر کردہ پولنگ ایجنٹس کو غیرقانونی طور پر پولنگ اسٹیشنوں میں داخل ہونے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ تینوں پولنگ اسٹیشنوں کے پریذائیڈنگ افسران نے امیدوار کے مقرر کردہ پولنگ ایجنٹس کو ان کی نشستیں سنبھالنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔۔
حالانکہ تمام پولنگ ایجنٹس امیدوار کی جانب سے تحریری طور پر مقرر کیے گئے ہیں، ان کے پاس تقرری کے درست خطوط موجود ہیں اور وہ اپنے اصل قومی شناختی کارڈ کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں پر موجود ہیں، اس کے باوجود انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 کی دفعہ 56 کے تحت امیدوار کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود رہنے اور انتخابی عمل کی نگرانی کا واضح قانونی حق حاصل ہے۔
شکایت کے مطابق ان ایجنٹس کو روکنے سے امیدوار کو انتخابی عمل کی نگرانی سے محروم کیا جا رہا ہے، جو قانون اور الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جبکہ اس سے ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جن میں بے ضابطگیاں کسی آزاد گواہ کے بغیر وقوع پذیر ہو سکتی ہیں۔
پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن نمبر 48، 52 اور 54 پر فوری طور پر پولنگ ایجنٹس کو ان کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی اجازت دی جائے، حلقہ ایل اے 32 کے تمام پریذائیڈنگ افسران کو ہدایت جاری کی جائے کہ قانونی طور پر مقرر کردہ پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنوں میں داخل ہونے سے نہ روکا جائے جبکہ اس غیرقانونی اقدام کے ذمہ دار پریذائیڈنگ افسران کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی جائے۔
یہ شکایت پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر الیکشن سیل کے انچارج عبدالشکور کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو ارسال کی گئی، جس کی نقل متعلقہ ریٹرننگ آفیسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کو بھی بھجوائی گئی ہے۔




