کشمیر پاکستان کا لاڈلہ بچہ، اٹوٹ انگ ،شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا ، ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے اٹوٹ انگ ہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا ، ہے اور رہے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کشمیر سے آج بھی ایک ہی آواز اٹھتی ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے ، کشمیر پاکستان کا لاڈلہ بچہ ہے، کشمیر سے ایک ہی آواز اٹھتی ہے ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی سازش بے نقاب، کالعدم ایکشن کمیٹی کی شرپسند ٹولیاں متحرک

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات ہیں جس پر تمام جماعتیں متفق ہیں ،1972 میں ہماری آبادی 7،8 کروڑ تھی آج آبادی 25 کروڑ ہے تو ہمیں کچھ سوچنا پڑیگا،۔مسائل حل نہیں ہو رہے اسکا مطلب ہے گڈ گورننس کیلئے کچھ کرنا پڑے گا ۔

فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے بھارتی مائی باپ ہیں۔کشمیریوں کا فیصلہ کہ پکا ہے کہ انہوں نے پاکستان کیساتھ آنا ہے تو بھارت نے تو کچھ نہ کچھ کرنا ہے ۔پہلگام میں فالس فلیگ ڈرامہ کرکے پاکستان پر چڑھائی کی تو پاکستان نے 2019میں بھی بھارت کی طبیعت صاف کی تو 2025میں بھی خوب مار پڑی

ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ جب پاکستان نے بھارت کی چھترول کرنا شروع کی تو الحمدللہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے پاکستان کے حق میں نعرے لگانا شروع کردیئے تھے ۔ بھارت پاکستان کا جغرافیہ کم کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کررہا ہے ، آزادکشمیر میں جے کے ایل ایف کی صورت میں بھارتی پراکسی موجود ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور شروع

آزادکشمیر میں بھارت کی واردات کافی باریک ہے ، عوامی حقوق کی آڑ میں بہت بڑی وردات ڈالی جارہی ہے ۔ پاکستان کے مختلف صوبے ہیں اوریہ سب ریاست کے بچے ہیں مگر کشمیر پاکستان کا سب سے لاڈلہ بچہ ہے ۔

اس تحریک کے پیچھے جو باریک وردات ڈالی گئی ریاست پہلے سے جانتی تھی ۔ ان کا اہم ایجنڈا یہ ہے کہ جو مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے کشمیری آئے ہیں انہیں اسمبلی میں نمائندگی نہیں چاہیے ۔ اس لئے نہیں کہ آزادکشمیر اسمبلی نے کہا ہے اس لئے کہ ہم انہیں نہیں مانتے اور ہم آئین لکھیں گے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست نے پھر بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا کہ آپ آئیں الیکشن لڑیں، اسمبلی میں پہنچیں اور آئینی ترمیم کے ذریعے اگر ان نشستوں کو ختم کرواسکتے ہیں تو آئینی طریقے سے ختم کریں ۔ مگر لاٹھی اور ڈنڈے اٹھا کر آئینی نشستیں ختم نہیں کرواسکتے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ اگر جتھوں کے کہنے پر آئین اور قانون ان کے ہاتھ میں دیدیں تو پھر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند کیخلاف ہم کیوں لڑ رہے ہیں ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ وسائل پر بات کریں تو سب سے زیادہ کشمیر کو حصہ ملتا ہے ،ریاست کے سارے بچے ہیں لیکن لاڈلہ کشمیر ہے ۔