لندن میں صحافی پر حملہ، کالعدم ایکشن کمیٹی کا اصل چہرہ پھر بے نقاب

لندن ، کالعدم عوام ایکشن کمیٹی کے حامیوں نے لندن میں احتجاج کے دوران کوریج کرنے والے صحافی ،نجی چینل کے رپورٹر مرتضی علی شاہ پر حملہ کر دیا ۔

لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے قریب پیش آنے والے واقعے کی سامنے آنے والی ویڈیوز اور عینی شاہدین کے مطابق مرتضیٰ علی شاہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے احتجاجی مارچ کی کوریج کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ریاست یرغمال،کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیرکازکو نقصان پہنچا رہی ہے،ساجدہ احمدکشمیری

اسی دوران کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں نے صحافی کو گھیر لیا اور ان پر حملہ کردیا۔

حملہ آوروں نے مرتضیٰ علی شاہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث صورتحال کشیدہ ہوگئی اور وہاں موجود افراد کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔

واقعے کے بعد صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے میٹروپولیٹن پولیس اور دیگر افراد نے مداخلت کی۔ پولیس نے مرتضیٰ علی شاہ کو ہجوم سے بحفاظت نکالا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

مرتضیٰ علی شاہ دوبارہ پاکستان ہائی کمیشن کے باہر رپورٹنگ کے لیے پہنچے تو اسی گروہ سے وابستہ بعض افراد نے انہیں ایک مرتبہ پھر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

صحافی پر حملے کے واقعے نے بیرون ملک پاکستانی صحافیوں کے تحفظ اور آزادی صحافت کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھا دئیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کو بھارت اور اسرائیل سمیت پانچ گروپس کے ہینڈل کرنے کا انکشاف

احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافی کو تشدد کا نشانہ بنانا اور رپورٹنگ سے روکنے کی کوشش کسی بھی جمہوری معاشرے میں قابل تشویش عمل سمجھا جاتا ہے۔

فرائض منصبی کے دوران صحافی پر حملہ اور تشدد سے ثابت ہو گیا کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کیلئے نہیں بلکہ ایک مخصوص ایجنڈے پر کام رہی ہے ، حملے سے کالعدم ایکشن کمیٹی کا گھنائونا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ۔