میرپور ڈویژن کے انتخابی نتائج پر پیپلز پارٹی کے تحفظات، نتائج روکنے اور انکوائری کا مطالبہ

مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نیئر حسین بخاری اور قمر زمان کائرہ نے چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر سے ملاقات کی ہے اور میرپور ڈویژن کے عام انتخابات کے نتائج کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے متنازع حلقوں کے نتائج روکنے اور انتخابی بے ضابطگیوں کی باقاعدہ انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو توقع ہے کہ وہ میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں میں سے سادہ اکثریت حاصل کرے گی۔ اب تک سامنے آنے والے نتائج میں بعض حلقوں کے حوالے سے پارٹی کو شدید تحفظات ہیں، بالخصوص ایسے حلقے جہاں آئین، قانون اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

پولنگ ایجنٹوں کو نکالنے، تشدد اور بے ضابطگیوں کے الزامات:

قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ ایل اے پارہ کے تقریباً 30 پولنگ اسٹیشنز پر مخالف جماعت کے کارکنوں کی جانب سے مبینہ طور پر جارحانہ رویہ اختیار کیا گیا، پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکالنے، ریڈ پیپرز چسپاں کرنے اور انتخابی کارروائی متاثر کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کو تحریری شکایت بھی جمع کروا دی گئی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابی قوانین کے تحت ریٹرننگ آفیسر کے ذریعے معاملے کی مکمل انکوائری کروائی جائے اور جب تک انکوائری مکمل نہ ہو، متعلقہ حلقے کے غیر حتمی اور حتمی نتائج جاری نہ کیے جائیں، کیونکہ متنازع نتائج کا اثر دیگر حلقوں اور مجموعی انتخابی عمل پر پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات 2026: میرپور ڈویژن کی تمام 13 نشستوں کے غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے

نکیال میں قتل کا واقعہ اور برتری کی پیشگوئی:

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ نکیال کے ایک حلقے میں انتخابی عمل کے دوران قتل کا افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا، جبکہ وہاں بھی زبردستی، تشدد اور پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو نکالے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ مذکورہ نشست بھی اس کے حق میں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور نشست کا نتیجہ بھی ابھی مکمل نہیں ہوا جہاں پارٹی کو تقریباً پانچ ہزار ووٹوں کی برتری حاصل ہے اور صرف ایک پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ باقی ہے۔ مجموعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہماری توقع ہے کہ تیرہ میں سے سات نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں آ سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایل اے پارہ کے حلقے میں بھی پیپلز پارٹی کا ٹرن آؤٹ ہمارے حق میں رہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہاں کا نتیجہ بھی ان شاء اللہ ہمارے حق میں آئے گا۔

مرحلہ وار انتخابات اور نتائج کے اجراء پر تحفظات:

قمر زمان کائرہ نے مرحلہ وار انتخابات کے حوالے سے کہا کہ اگر سکیورٹی اور انتظامی وجوہات کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے انتخابات مختلف مراحل میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ اپنی جگہ، تاہم غیر حتمی نتائج بھی فوری طور پر جاری نہیں ہونے چاہیے تھے۔ بہتر طریقہ یہ تھا کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد تمام حلقوں کے نتائج ایک ساتھ جاری کیے جاتے، کیونکہ غیر حتمی نتائج بھی سیاسی ماحول اور آئندہ انتخابی عمل، بالخصوص ضمنی انتخابات، پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جب اسمبلی کی مدت کے آخری دنوں میں ہوتی ہے تو ذمہ داری قبول کرنا آسان نہیں ہوتا، لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے سیاسی نقصان کے خدشے کے باوجود یہ ذمہ داری قبول کی۔ مسلم لیگ (ن) اس وقت ہمارا ساتھ دینے کی ہمت نہ کر سکی۔

بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی مہم اور ن لیگ پر تنقید:

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ایک وقت میں آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں ماند پڑ چکی تھیں اور کوئی جماعت بھرپور انداز میں انتخابی میدان میں آنے کو تیار نہیں تھی۔ ایسے حالات میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور واضح کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں وہ ہر علاقے میں جائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد، کوٹلی، میرپور اور دیگر علاقوں کے دورے کیے، جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے کارکن متحرک ہوئے اور عوام میں سیاسی سرگرمی بڑھی، بعدازاں دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی میدان میں آنے کا حوصلہ ملا۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے آزاد کشمیر میں ترقیاتی اقدامات اور بسوں کی فراہمی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر سے محبت کا دعویٰ ہے تو یہ اقدامات انتخابات کے قریب کرنے کے بجائے ایک سال پہلے کیے جاتے۔ انتخابات کے قریب چند کلینک آن ویلز اور دس بسیں دے کر مظفرآباد کے ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے کا دعویٰ کافی نہیں۔

شفاف انکوائری اور پرامن سیاست کا عزم:

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے سیاسی جماعتوں کو دوبارہ سیاسی عمل میں واپس لانے اور معاشرے کو جمہوریت اور سیاست کی طرف متوجہ کرنے میں کردار ادا کیا۔ میرپور اور کوٹلی میں ہونے والے انتخابات کو غیر معمولی حالات میں ہونے والا غیر معمولی انتخابی عمل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معمول کی صورتحال نہیں اور نہ ہی آئندہ انتخابات میں ایسا طریقہ کار برقرار رہ سکے گا۔ اس کے اثرات ضرور ہوں گے، تاہم ہمیں امید ہے کہ مظفرآباد اور دیگر خطے، جہاں روایتی طور پر پیپلز پارٹی کے ووٹرز موجود ہیں، دوسرے مرحلے میں عوام اپنا فیصلہ واضح طور پر سنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم اسی مقصد کے لیے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے لیے آئے تھے اور توقع ہے کہ ہماری شکایات پر مناسب اور شفاف انکوائری کروائی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ (ن) پر الزامات ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بھی پیپلز پارٹی پر الزامات ہوں گے، لیکن کون غلط ہے اور کون صحیح، اس کا فیصلہ سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ الیکشن کمیشن شواہد اور قانون کی بنیاد پر کرے۔ الیکشن کمیشن کو فریقین کے الزامات کو ایک طرف رکھ کر غیر جانب دارانہ انکوائری کرنی چاہیے اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں:مسلم لیگ (ن) کو 9 نشستوں پر برتری اور کامیابی، پیپلز پارٹی 4 نشستیں جیتنے میں کامیاب

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صحافیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ غیر جانب دارانہ رپورٹنگ کریں، دونوں سیاسی جماعتوں کا مؤقف عوام کے سامنے رکھیں اور جہاں پیپلز پارٹی کی غلطی ہو اسے بھی رپورٹ کریں اور جہاں مسلم لیگ (ن) کی غلطی ہو اسے بھی عوام کے سامنے لائیں۔ انہوں نے دہرایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پرامن انتخابات پر یقین رکھتی ہے۔ اگر کسی جماعت کو یقین ہے کہ عوام اس کے ساتھ ہیں تو اسے طاقت یا تشدد کے اظہار کی ضرورت نہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں، اس لیے ہم کسی قسم کے تشدد کے حامی نہیں اور پیپلز پارٹی ووٹ کی طاقت پر یقین رکھتی ہے۔