آزادکشمیر

ہائی کورٹ نے راجہ فاروق حیدر کی رٹ پٹیشن سماعت کے لیے منظور کر لی

آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور موجودہ رکن قانون ساز اسمبلی راجہ فاروق حیدر خان کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے خلاف دائر کردہ رٹ پٹیشن کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔

مشاورت کے بغیر فنڈز کی تقسیم پر اعتراض:

راجہ فاروق حیدر خان کی جانب سے دائر پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے حلقہ ایل اے-32 میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز تو جاری کیے، لیکن ان منصوبوں اور فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے ان سے بطور مقامی رکن اسمبلی کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ ان کا مؤقف ہے کہ منتخب نمائندے کو بائی پاس کر کے فنڈز جاری کرنا ضابطے کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہائیکورٹ آزادکشمیر، ایڈھاک ایکٹ 2026معطل،حکم امتناعی جاری

ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک کا قانونی سفر:

اس کیس کا پس منظر یہ ہے کہ اس سے قبل ہائی کورٹ نے راجہ فاروق حیدر کی جانب سے دائر کردہ حکمِ امتناعی (اسٹے آرڈر) کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں اپیل دائر کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ترقیاتی فنڈز پر حکمِ امتناعی جاری کر دیا اور مقدمہ تفصیلی اور دوبارہ سماعت کے لیے واپس ہائی کورٹ کو بھجوا دیا تھا۔ اب ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں اس پٹیشن کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیا ہے۔ عدالت میں راجہ فاروق حیدر خان کی جانب سے نامور قانون دان راجہ ایاز احمد ایڈووکیٹ مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں۔