واشنگٹن: امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آؤ ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں، ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا دوٹوک جواب
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی شروع ہوگئی ہے۔امریکی فوج کی جانب سے گزشتہ 2 روز سے ایران پر حملے کیے گئے۔
ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
امریکا کی طرف سے ایران پر کئے گئے حملوں میں 14شہری اور پاسداران انقلاب کے3اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری طرف ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے اور 90اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
قبل ازیں جمعرات کی رات ایرانی سرکاری ٹی وی کا کہنا تھا کہ بندرعباس میں دھماکوں کی اطلاعات غلط ہیں۔
ایرانی خبرایجنسی کے مطابق بوشہر میں دھماکے کی آواز فضائی دفاعی نظام کی کارروائی تھی جبکہ امریکی ٹی وی نے کہ کہ امریکا نے ایران پرکوئی حملہ نہیں کیا۔
اس سے قبل ایرانی خبر ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کےعلاقے بوشہر اور چوغادک میں بھی 6 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی چھوٹ ختم، ایران کا کروڑوں بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا
یاد رہے کہ اس سے قبل ترکیے کے دار الحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہ کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانیوں سے ڈیل نہیں کرنا چاہتا، ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی ختم ہو گئی ہے۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانیوں کےپاس جوہری ہتھیار ہوتےتو وہ اسےاستعمال کرتے، میں ایران کےساتھ اپناوقت ضائع کرنانہیں چاہتا۔




