عالمی منڈی میں منگل کے روز سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی نظریں اس وقت امریکی فیڈرل ریزرو کے جون کے اجلاس کے منٹس پر مرکوز ہیں، جن سے آئندہ شرحِ سود کے حوالے سے اہم اشارے ملنے کی قوی توقع کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد کمی کے بعد 4,138.32 ڈالر فی اونس تک آ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب اگست کے امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد تنزلی کے ساتھ 4,149.90 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔
امریکی مرکزی بینک کی پالیسی کا دباؤ:
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمتیں اس وقت امریکی مرکزی بینک کی آئندہ مالیاتی پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔ سرمایہ کار اس بات کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو آئندہ مہینوں میں شرحِ سود میں مزید اضافہ کرے گا یا پھر موجودہ پالیسی کو ہی برقرار رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی، فی تولہ سونا 2 ہزار 400 روپے سستا ہو گیا
شرحِ سود میں اضافے کے امکانات:
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے بعد شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کسی حد تک کم ضرور ہوئی ہیں، تاہم مالیاتی منڈی اب بھی ستمبر میں شرحِ سود بڑھائے جانے کا تقریباً 56 فیصد امکان ظاہر کر رہی ہے۔
ایشیائی مارکیٹ میں اہم ترین پیش رفت:
دوسری جانب ایشیائی مارکیٹ میں بھی ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ہانگ کانگ نے سونے کی کلیئرنگ کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے اور گولڈ فیوچر ٹریڈنگ کا دوبارہ باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد ایشیا میں قیمتی دھاتوں کی تجارت کے ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن کو پہلے سے مزید مضبوط بنانا ہے۔
مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی توقعات:
معاشی ماہرین کے مطابق فیڈرل ریزرو کے اجلاس کے منٹس جاری ہونے کے بعد عالمی سونے کی مارکیٹ میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، کیونکہ سرمایہ کار آئندہ مالیاتی پالیسی اور شرحِ سود سے متعلق واضح اشاروں کے منتظر ہیں۔ ایسے فیصلے نہ صرف عالمی سونے کی قیمتوں بلکہ دیگر تمام مالیاتی منڈیوں کی سمت کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔




