سعودی عرب نے خام تیل کی قیمتیں گزشتہ پانچ برسوں کی کم ترین سطح پر پہنچا دیں

دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے پیدا کنندہ ملک سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایشیائی خریداروں کو خام تیل اب انتہائی کم قیمتوں پر فروخت کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے مارکیٹ میں تیل کی آمد میں اضافے اور عالمی مسابقت تیز ہونے کے باعث، خام تیل کی ماہانہ قیمتوں میں گزشتہ 25 برسوں کی یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ‘سعودی آرامکو’ کا کہنا ہے کہ اس نے رواں ماہ کی ترسیل کے لیے اپنے ‘عرب لائٹ خام تیل’ کی آفیشل سیلنگ پرائس میں 11 ڈالر فی بیرل کی نمایاں کمی کر دی ہے۔ یہ نئی قیمت ایشیائی مارکیٹوں کے لیے علاقائی بینچ مارک سے 1.50 ڈالر کم کی سابقہ شرح سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔

پانچ سال کی کم ترین قیمت کا ریکارڈ:

رائٹرز کے حساب کتاب اور شائع شدہ اعداد و شمار کے مطابق، قیمتوں میں اس حالیہ تبدیلی کے بعد سعودی عرب کے خام تیل اور دیگر جگہوں پر فروخت ہونے والے تیل کے درمیان قیمت کا یہ فرق سال 2020 کے بعد سب سے کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ مارکیٹ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ‘ایس اینڈ پی گلوبل پلیٹس’ کے مطابق یہ سنہ 2000 کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اوپیک پلس فیصلے ، خلیجی ممالک سے برآمدات کی بحالی کے بعدعالمی منڈی میں خام تیل سستا

امریکا اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدہ:

عالمی مارکیٹ میں یہ بڑی تبدیلی امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے ایک عبوری امن معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس معاہدے نے علاقائی کشیدگی کے باعث روک دی جانے والی تیل کی ترسیل کے لیے راستہ صاف کر دیا ہے، جس سے دنیا کے مصروف ترین توانائی کے بحری راستوں میں سے ایک ‘آبنائے ہرمز’ کے ذریعے تیل کی نقل و حرکت اب آزادانہ طور پر شروع ہو گئی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کی تشویش اور مارکیٹ مسابقت:

آبنائے ہرمز سے سپلائی بحال ہونے کے باعث مارکیٹ میں خام تیل کی سپلائی میں اچانک بڑا اضافہ ہوا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی شدید مسابقت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان قیمتیں مسلسل نیچے کی طرف آ رہی ہیں۔ رینیسنس انرجی ایڈوائزرز کے آئل اینالسٹ احمد مہدی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ کمی مارکیٹ شیئر کی جنگ شروع ہونے کا اشارہ نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ موجودہ سطح پر فوری کارگو کی پیشکش بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال حالیہ کچھ رکاوٹوں کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت کے معمول پر آنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور سعودی حکمت عملی:

سعودی عرب کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں اس بڑی کٹوتی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک ملے جلے تجارتی دائرے میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں، تاہم ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی توقع سے زیادہ مضبوط طلب نے فروخت کے اس دباؤ کو کافی حد تک متوازن کر دیا۔ ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے قیمتوں میں کمی اور پیداوار میں تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ مارکیٹ کی قوتوں کو بتدریج کنٹرول کرنے میں مہارت رکھتا ہے، جبکہ اوپیک پلس (OPEC+) اتحاد کے ارکان کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے تحت پیداوار بڑھانے کے عزم کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت کے بعد تیل قیمتوں میں مزید کمی