کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند احتجاج ناکام ہونے پر نئے ہتھکنڈوں پر اترآئے ہیںاور انہوں نےچھٹی پر آئے ہوئے 2پولیس اہلکاروں کو اغواء کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اغواء ہونے والے پولیس اہلکاروں میں آزادکشمیر پولیس کے کانسٹیبل صغیر اور کانسٹیبل اشتیاق شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ: بڑے سپورٹر وقاص چوہان کا کالعدم ایکشن کمیٹی سے تنگ آکر پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان
یاد رہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلایا جا رہا تھا کہ روالاکوٹ دھرنے کے ارد گرد کوئی بھی پولیس والا نظر آئے، گرفتار کریں،یہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے کور ممبر خواجہ مہران کا حکم ہے۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی اس سے قبل بھی ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھی ، احتجاج کے نام پر کئی بار پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اب ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ شرپسندوں سے سختی سے نمٹا جائیگا۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا سیاسی جنازہ بڑی دھوم سے نکل گیا: آزاد کشمیر میں انتخابی گہما گہمی عروج پر!
یہ بھی یاد رہے کہ آج 5جولائی کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ریاست گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے، عوام نے جیسے پہلے کالعدم تنظیم کی کال مسترد کی ، اب بھی عوام کو احتجاج سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
گزشتہ روز نماز فجر کے وقت کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے فائرنگ کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا جس کی خود ہی تردید کی کہ کوئی زخمی نہیں ہوا جبکہ پولیس نے بھی کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہے، پولیس اہلکار صرف سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مدینہ مارکیٹ کے تاجر شکیل اعوان کا کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجا ج پر مایوسی کا اظہار
ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو آج 5 جولائی کی کال ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس پر شرپسندوں کی کوشش ہے کہ کوئی واقعہ رونما کرایا جائے




