آزاد جموں و کشمیر میں انتخابی بگل بجتے ہی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد اور امیدواروں کا جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ٹکٹوں کی حالیہ تقسیم اور انتخابی حکمتِ عملی کے جائزے نے آزاد کشمیر کی پوری انتخابی بساط کو الٹ کر رکھ دیا ہے، جس سے کئی حلقوں میں سیاسی معرکے کا نقشہ یکسر تبدیل ہو گیا ہے۔
پارٹی قیادت کی جانب سے وفاداروں پر اعتماد کرنے اور نئے و نوجوان چہروں کی انٹری کرانے کی پالیسی نے متعدد انتخابی حلقوں میں غیر متوقع اور انتہائی کانٹے دار مقابلوں کی راہ ہموار کر دی ہے۔ تاہم، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے پیپلزپارٹی چھوڑتے ہی پارٹی کے اندرونی حلقوں میں واضح پھوٹ بھی سامنے آئی ہے، جس کے باعث اہم رہنماؤں احمد صغیر اور دیوان علی چغتائی کے انتخابی ٹکٹ مشکوک قرار دے دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کا چار حلقوں سے الیکشن لڑنے کا حتمی فیصلہ
سردار تنویر الیاس کی رخصتی اور رہنماؤں پر عدم اعتماد کا بحران:
ذرائع کے مطابق، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی پیپلزپارٹی سے رخصتی کے فوراً بعد پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے وزیرحکومت احمد صغیر، موجودہ حکومت کے وزیرتعلیم دیوان علی چغتائی اور جاوید بٹ کو مشکوک قرار دے دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تینوں اہم شخصیات کو سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کا انتہائی قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اب ان پر دوبارہ مکمل اعتبار کرنے سے گریزاں ہے کیونکہ یہ رہنما مستقبل میں پارٹی کے لیے کسی بھی وقت دردِ سر بن سکتے ہیں۔
نامور صحافی کاشف میر کے مطابق، وزیرحکومت احمد صغیر اور وزیرتعلیم دیوان علی چغتائی کی جگہ متبادل امیدواروں کو الیکشن لڑانے کے لیے پارٹی قیادت نے سرجوڑ لیے ہیں اور ان حلقوں میں نئے ناموں پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
متبادل امیدواروں کی تلاش اور نئے ناموں پر جاری مشاورت:
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد صغیر اور دیوان علی چغتائی کی جگہ پیپلزپارٹی نئے متبادل امیدواروں کی تلاش میں مصروف ہے، جبکہ جاوید بٹ کی جگہ حمزہ مجید بزمی یا ذیشان مہدی کو میدان میں اتارنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سردار احمد صغیر کی جگہ ڈاکٹر عمر عزیز یا سید دلاور بخاری کے نام بھی پارٹی قیادت کے زیرِ غور ہیں، جبکہ دیوان علی چغتائی کے متبادل کے لیے بھی پارٹی کے اندر مشاورتی عمل تیزی سے جاری ہے۔
الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ؛ چوہدری لطیف اکبر کے کاغذاتِ نامزدگی منظور:
ادھرالیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے مظفرآباد میں قائمقام صدر و اسپیکر قانون ساز اسمبلی اور امیدوار اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی اپیل پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، جس کے تحت ریٹرننگ آفیسر کا پرانا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ان کے کاغذاتِ نامزدگی کو باقاعدہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ کاغذات کی منظوری کے بعد میڈیا سے دبنگ گفتگو کرتے ہوئے چوہدری لطیف نے واضح کیا کہ اگر کاغذات مسترد ہو بھی جاتے تو ہم اصولوں کی سیاست کی بدولت الیکشن ضرور جیتتے، کیونکہ پیپلز پارٹی کسی فرد کی نہیں بلکہ عوام کی سیاست کرتی ہے اور آنے والے الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے آزاد کشمیر میں اگلی حکومت بنائے گی۔
مزید پڑھیں: متنازعہ بیان، پیپلزپارٹی قیادت نے جاوید بٹ کا پارٹی ٹکٹ منسوخ کردیا
سوشل میڈیا بیان پر جاوید بٹ کا ٹکٹ منسوخ:
دوسری جانب، ایک اہم حلقے میں جاوید بٹ کا انتخابی ٹکٹ باقاعدہ طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا پر سابق وزیرحکومت جاوید بٹ سے منسوب ایک متنازع بیان سامنے آیا تھا جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے فوری نوٹس لیا۔ قیادت نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جاوید بٹ کا انتخابی ٹکٹ منسوخ کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی، جس کے بعد اس مخصوص حلقے کے لیے متبادل امیدوار پر مشاورت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذرائع نے اس حوالے سے مزید بتایا ہے کہ اب قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ذیشان مہدی کو حلقہ ایل اے 43 راولپنڈی ویلی سے پاکستان پیپلز پارٹی کا نیا امیدوار نامزد کیا جائے گا، تاہم اس اہم فیصلے کے حوالے سے پارٹی کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ یا حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کی بھرپور تیاریوں کے سلسلے میں اپنی مجموعی انتخابی حکمتِ عملی کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق یہ تمام اہم فیصلے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔




