توہینِ عدالت کیس میں سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا تاریخی فیصلہ: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج معطل، انکوائری کا حکم

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے توہینِ عدالت کے ایک اہم کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مظفرآباد کو ملازمت سے معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے اور معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے چیف جسٹس، جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور سینئر جج جسٹس رضا علی خان پر مشتمل معزز بینچ نے پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی آزاد کشمیر بنام فاروق محمود خان کی درخواستِ توہینِ عدالت پر سماعت کرتے ہوئے یہ سخت ترین تادیبی حکم جاری کیا۔

کیس کا پسِ منظر اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی

کیس کی تفصیلات کے مطابق، ڈسٹرکٹ کورٹ باغ میں پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی ایک قیمتی گاڑی کی آکشن (نیلامی) کا کیس زیرِ سماعت تھا، جبکہ اسی معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے ہی باقاعدہ حکمِ امتناعی (اسٹے آرڈر) جاری کیا جا چکا تھا۔ اس کے باوجود، متعلقہ ڈسٹرکٹ جج باغ (وقت) جو کہ اس وقت حال ڈسٹرکٹ جج مظفرآباد کے عہدے پر تعینات ہیں، نے سپریم کورٹ کے واضح حکم کو یکسر نظرانداز کر دیا۔ انہوں نے تقریباً 60 سے 70 لاکھ روپے مالیت کی قیمتی گاڑی کو محض 8 لاکھ روپے میں نیلام کرنے کا غیر قانونی حکم جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رجسٹریشن کیس، سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا

عدالتی احکامات کی اس سنگین خلاف ورزی کے خلاف سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی، جس پر عدالتِ عظمیٰ نے متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے باقاعدہ وضاحتی (پیرہ وائز) تبصرہ طلب کیا۔ معزز جج نے اپنے تحریری جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے یہ اقدام اپنے پیشرو جج کے سابقہ فیصلے کی روشنی میں اٹھایا تھا۔

معزز عدالتِ عظمیٰ کے ریمارکس اور انکوائری کا حکم

سپریم کورٹ نے جج کے وضاحتی جواب پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ جج کو اپنے پیشرو کے کسی بھی فیصلے کے بجائے سپریم کورٹ کے جاری کردہ حکمِ امتناعی کو ہر صورت مقدم اور بالاتر رکھنا چاہیے تھا، اور عدالتی اسٹے آرڈر کے باوجود نیلامی کا حکم دینا بادی النظر میں اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اس طرزِ عمل پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو فوری طور پر ملازمت سے معطل کرتے ہوئے ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے چیف جسٹس کو باقاعدہ ہدایت جاری کی ہے کہ کسی ہائی کورٹ جج سے اس پورے معاملے کی شفاف انکوائری کرائی جائے۔

مزید پڑھیں: محکمہ تعلیم میں معلمین القرآن کی تقرریوں کا معاملہ، سپریم کورٹ نے سماعت کی تاریخ مقرر کر دی

گاڑی فوری ریکور کرنے کا حکم

اپنے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے مزید حکم دیا ہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج باغ نیلام کی جانے والی اس گاڑی کو فوری طور پر اپنے قبضے میں لے کر ریکور کریں اور اس ریکوری کے حوالے سے جلد از جلد معزز عدالت میں جامع رپورٹ پیش کریں۔

عدالتِ عظمیٰ میں دائر اس اہم ترین مقدمے میں درخواست گزار کی جانب سے نامور قانون دان ثاقب عباسی ایڈووکیٹ نے بہترین انداز میں پیروی کی۔