“مسترد ہو بھی جاتے تو الیکشن ضرور جیتتے”کاغذات کی منظوری کے بعد چوہدری لطیف اکبر کا دبنگ اعلان

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے مظفرآباد میں قائمقام صدر و اسپیکر قانون ساز اسمبلی اور امیدوار اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی اپیل پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ آفیسر کا پرانا فیصلہ معطل کرتے ہوئے چوہدری لطیف اکبر کے کاغذاتِ نامزدگی کو باقاعدہ طور پر منظور کر لیا ہے۔

اس سے قبل ریٹرننگ آفیسر نے چوہدری لطیف اکبر کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے تھے، جس کے بعد انہوں نے اس فیصلے کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز چوہدری لطیف اکبر کی اس اپیل پر تفصیلی سماعت کی تھی، جس کے بعد آج ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ معطل کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ: قائمقام صدر چوہدری لطیف اکبر کے کاغذاتِ نامزدگی منظور

پیپلز پارٹی فرد کی نہیں، پارٹی کی سیاست کرتی ہے: لطیف اکبر:

کاغذاتِ نامزدگی منظور ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری لطیف اکبر نے انتہائی جارحانہ اور دبنگ سیاسی موقف اپنایا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ “اگر میرے کاغذات مسترد ہو بھی جاتے، تو ہم الیکشن ضرور جیتتے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی ایک فرد کی سیاست نہیں کرتی بلکہ یہ اصولوں اور پارٹی کی سیاست کرتی ہے، جس کی جڑیں عوام میں مضبوط ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پورے قانونی عمل اور اتار چڑھاؤ کے دوران حلقے کی عوام نے جس پریشانی کا سامنا کیا اور جس طرح وہ ثابت قدم رہے، میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

آزاد کشمیر میں اگلی حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی:

چوہدری لطیف اکبر نے انتخابی دنگل میں اپنی اہلیت ثابت ہونے کے بعد مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر بھی بڑی پیش گوئی کر دی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آنے والے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی اور آزاد کشمیر میں اگلی حکومت پیپلز پارٹی کی ہی بنے گی۔

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد جہاں ان کے حامیوں اور پیپلز پارٹی کے کارکنان میں جشن کا ماحول ہے، وہی مظفرآباد کے انتخابی میدان میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم اور مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔