کیا اب پاکستان میں بھی پٹرول سستا ہونے والا ہے؟ عالمی مارکیٹ کی تازہ ترین صورتحال

عالمی توانائی مارکیٹ ایک بار پھر اہم موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک کمی نے سرمایہ کاروں اور ماہرین دونوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ایک ایسے وقت میں ریکارڈ کی گئی ہے جہاں سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ امریکا اور ایران کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع مذاکرات پر مرکوز ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سفارتی پیش رفت کی امید نے عالمی تیل مارکیٹ میں مثبت تاثر پیدا کیا ہے، جس کے باعث قیمتوں پر واضح دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، اگرچہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے اگست کے فیوچر کنٹریکٹس 75 سینٹ یا 1.03 فیصد کمی کے بعد 72.40 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ زیادہ سرگرمی سے ٹریڈ ہونے والا ستمبر کا برینٹ کنٹریکٹ 40 سینٹ یا 0.54 فیصد کمی کے بعد 73.51 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 47 سینٹ یا 0.66 فیصد کمی کے بعد 70.32 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں سرمایہ کار فی الحال محتاط مگر نسبتاً پرامید رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خام تیل کی خریداری پر ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز

مذاکرات کی امید اور سپلائی میں بہتری کے امکانات:

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے کامیاب ہونے کی توقعات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کمی آتی ہے تو خطے میں تیل کی سپلائی بہتر ہونے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں، جس کا براہِ راست اور مثبت اثر عالمی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔

تاہم، ماہرین نے اس صورتحال پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل تاحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی، اس لیے عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی غیر متوقع پیش رفت یا خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں۔

چیف مارکیٹ اینالسٹ کا اہم مؤقف اور آئندہ کے دن:

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ سرمایہ کار سفارتی پیش رفت کے حوالے سے امید ضرور رکھتے ہیں، لیکن وہ اس وقت تک مارکیٹ میں اپنے مکمل اعتماد کا اظہار نہیں کریں گے جب تک مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں واضح کمی اور تیل کی سپلائی معمول پر آنے کے ٹھوس شواہد سامنے نہیں آتے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے مٹی کا تیل 6روپے85پیسے فی لیٹر سستا کر دیا

تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند روز عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ دوحہ مذاکرات کے نتائج، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی مجموعی کیفیت ہی آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں کے مستقبل کا حتمی تعین کرے گی۔