پاکستان

سونے کی قیمت میں آج پھر بڑی کمی ریکارڈ، فی تولہ قیمت میں 4100 روپے کی نمایاں گراوٹ

عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں اور خریداروں کی توجہ مارکیٹ کے آئندہ رجحان پر مرکوز ہو گئی ہے۔ عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اس مزید کمی کے بعد فی تولہ سونا سستا ہو گیا ہے۔

آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط فی تولہ سونا 4100 روپے سستا ہو کر 424,836 روپے پر آ گیا ہے، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4515 روپے کمی کے بعد 364,228 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا 41 ڈالر کمی کے بعد فی اونس 4024 ڈالر کی سطح پر آ گیا ہے، جس سے عالمی سطح پر بھی قیمتوں میں نرمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب چاندی کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں فی تولہ چاندی 25 روپے بڑھ کر 6349 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور ڈالر کی صورتحال کے باعث سونے کی قیمتوں میں آئندہ دنوں میں بھی غیر یقینی رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔

امریکی ڈالر کی مضبوطی اور ماہرین کا انتباہ:

عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی مسلسل اور جارحانہ مضبوطی کے باعث سونے کی قیمتیں شدید ترین دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں، جس کے بعد مالیاتی ماہرین نے ایک بڑا انتباہ جاری کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، رواں سہ ماہی سونے کے لیے گزشتہ 10 سال سے زیادہ عرصے کی بدترین اور نقصان دہ سہ ماہی ثابت ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی صرافہ مارکیٹ میں سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے سونے سے تیزی سے اپنا سرمایہ نکال کر امریکی بانڈز اور ڈالر میں منتقل کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی دھات کی عالمی طلب میں ریکارڈ کمی دیکھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اب پاکستان میں بھی پٹرول سستا ہونے والا ہے؟ عالمی مارکیٹ کی تازہ ترین صورتحال

روزگار کا ڈیٹا اور آئندہ کے اہم پالیسی اشارے:

کموڈٹی مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز عالمی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ امریکا میں روزگار کے نئے اعداد و شمار اور امریکی مرکزی بینک کے آئندہ کے پالیسی اشارے سونے کی قیمتوں کی اگلی سمت کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اگر ڈالر کی یہ مضبوطی اسی طرح برقرار رہی تو سونے کی بین الاقوامی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا اور اس کی قدر میں مزید بڑی گراوٹ آ سکتی ہے۔

اگر تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو سونا ہمیشہ سے عالمی معاشی بحرانوں، جنگوں اور افراطِ زر (مہنگائی) کے دور میں سرمایہ کاروں کے لیے ایک ‘سیف ہیون’ یعنی محفوظ ترین پناہ گاہ رہا ہے۔ جب بھی دنیا میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے، سونے کی قیمتیں ریکارڈ توڑتی ہیں، جیسا کہ ماضی کے مختلف بحرانوں میں دیکھا گیا۔ تاہم اس بار صورتحال مختلف ہے؛ امریکی معیشت کی غیر متوقع مضبوطی اور ڈالر کی مسلسل بالادستی نے سونے کے روایتی کردار کو چیلنج کر دیا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں سونے نے کئی بڑے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، لیکن موجودہ گراوٹ 2015 کے بعد کی بدترین سہ ماہی کارکردگی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

سرمائے کا رخ تبدیل اور لوکل مارکیٹوں پر اثرات:

سرمایہ کار اس وقت ’کیش از کنگ‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ جب تک امریکی مرکزی بینک شرح سود میں کمی کا باقاعدہ آغاز نہیں کرتا، تب تک سونے میں بڑی تیزی کی امید کم ہے کیونکہ غیر منافع بخش اثاثہ ہونے کی وجہ سے سونا فی الحال ڈالر کا مقابلہ نہیں کر پا رہا۔ عالمی سطح پر سونے کی فی اونس قیمت گرنے سے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی مقامی مارکیٹوں میں بھی سونے کے نرخ کم ہونے چاہیے، تاہم ان ممالک میں مقامی کرنسی کی بے قدری اور ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے عالمی گراوٹ کا پورا ریلیف عام صارفین تک نہیں پہنچ پاتا۔

مزید پڑھیں: سونافی تولہ 2 ہزار 300 روپے سستا، چاندی کے نرخ بھی گر گئے

مستقبل کی اہم پیشگوئی:

اگر امریکا کے روزگار کے اعداد و شمار توقع سے زیادہ مضبوط آئے، تو سونا بین الاقوامی مارکیٹ میں 1900 یا 1850 ڈالر فی اونس کی نفسیاتی سطح تک نیچے گر سکتا ہے، جو صرافہ مارکیٹ کے تاجروں کے لیے بڑا معاشی نقصان ہو گا۔