اسلام آباد: ملک میں پولیو کے خاتمے کی مسلسل کوششوں کے باوجود مختلف اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں ایک بار پھر پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آ گئی۔
مئی 2026 میں ملک کے مختلف اضلاع سے حاصل کیے گئے سیوریج کے نمونوں کے تجزیے میں سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پولیو وائرس کے پھیلاؤ کوکیسے روکا جائیگا؟ حکومت کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق سندھ میں کشمور، قمبر، کراچی ضلع شرقی اور کراچی ضلع غربی کے سیوریج نمونے پولیو وائرس کے لیے مثبت آئے ہیں۔
بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی اور چمن کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس پایا گیا ہے۔اسی طرح خیبرپختونخوا کے پشاور اور بنوں کے سیوریج نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
دوسری جانب پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے تمام ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے منفی آئے ہیں۔
قبل ازیں وفاقی وزیرصحت مصطفی کمال نے کہا تھا کہ ماحولیاتی نمونوں کے نتائج میں نمایاں بہتری آئی ہے جس میں 29 میں سے 28 نمونے منفی رپورٹ کے ساتھ آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک افغان وزرائے صحت کا پولیو کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں پراتفاق
مصطفی کمال نے بتایا کہ اگست 2023 کے بعد منفی ماحولیاتی نمونوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ ہوئی۔ کراچی ڈویژن میں پولیو وائرس کی گردش میں نمایاں کمی ہوئی اور 12 میں سے 11 ماحولیاتی نمونے پہلی بار منفی آئے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جولائی 2026 کے دوران کراچی میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا انعقاد کیا جائے گا۔ پولیو فری پاکستان کا عزم، ہر بچے کو پولیو سے تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔




