عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں اضافے کی توقعات ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز سونے کی قیمتوں میں کمی کا یہ رجحان دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات قرار دی جا رہی ہیں۔
شرح سود میں اضافے کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے مارکیٹ میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے، جس کا براہ راست منفی اثر سونے کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 4,061.35 ڈالر فی اونس کی سطح تک نیچے آگئی ہے۔
امریکی گولڈ فیوچرز اور ماہرین کی آراء:
اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.5 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ 4,076.40 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق رواں سال یہ مسلسل چوتھا مہینہ ہے جب سونے کی قیمتوں میں کمی کا یہ رجحان مسلسل برقرار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلند شرح سود کی توقعات کے باعث سونا اب نسبتاً کم پرکشش سرمایہ کاری بن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی تازہ قیمتیں جاری: آج فی تولہ سونا کتنے کا ہو گیا؟
سرمایہ کاروں کا رجحان اور روزگار کے اعداد و شمار:
بڑھتی ہوئی شرح سود کے باعث اب سرمایہ کار سونے کے بجائے دیگر مالیاتی اثاثوں کی طرف اپنا رجحان بڑھا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی نظریں اب امریکا کے آئندہ روزگار کے اعداد و شمار پر مکمل مرکوز ہیں، جو امریکی مرکزی بینک کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے حوالے سے انتہائی اہم اشارے فراہم کر سکتے ہیں۔
آئندہ کے معاشی امکانات اور مارکیٹ صورتحال:
انہی اعداد و شمار کی بنیاد پر شرح سود کے مستقبل کا حتمی تعین کیا جائے گا، جس کا براہ راست اثر سونے کی عالمی قیمتوں پر پڑے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر آئندہ دنوں میں مہنگائی میں کمی، امریکی ڈالر کی کمزوری اور عالمی معاشی حالات میں بہتری آتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں دوبارہ بہتری کا امکان موجود ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔




