سپریم کورٹ

پی ٹی آئی رجسٹریشن کیس میں بڑی پیش رفت: آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات سے قبل ایک بہت بڑی قانونی اور سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن سے متعلق آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا فیصلہ عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس اہم ترین موڑ پر سپریم کورٹ نے اگلی سماعت کے لیے ایک فل بینچ بھی تشکیل دے دیا ہے، جس کے بعد انتخابی گہما گہمی میں قانونی بحث تیز ہو گئی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے کیس کے تمام فریقین کو باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ اس حساس معاملے کی مزید سماعت اب 2 جولائی کو ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا عمل غداری کے مترادف ہے، صدرسپریم کورٹ بار ایسوسی

ہائی کورٹ کا سابقہ فیصلہ اور موجودہ معطلی:

یاد رہے کہ اس سے قبل آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کو واضح حکم دیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کو بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ کیا جائے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو فی الوقت معطل کرتے ہوئے کیس کی سماعت فل بینچ کے سپرد کر دی ہے، جہاں اب تمام فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد ہی اگلی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عدالتِ عظمیٰ کے اس اقدام کے بعد پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی رجسٹریشن کا معاملہ اب بھی زیر التواء (Pending) ہے اور اس کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کی اگلی سماعت کے بعد ہی متوقع ہے۔

عام انتخابات کا شیڈول اور ووٹرز کے اعداد و شمار:

دوسری جانب، الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کی طرف سے عام انتخابات کا باقاعدہ شیڈول پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے، جس کے تحت ریاست میں عام انتخابات 27 جولائی 2026 کو منعقد ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے، اسکروٹنی، اپیلیں دائر کرنے اور کاغذات واپس لینے کی تمام تاریخیں بھی مقرر کی جا چکی ہیں۔ تازہ ترین انتخابی فہرستوں کے مطابق، اس بار رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 38 لاکھ (3.8 ملین) سے تجاوز کر چکی ہے، جو کہ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں ایک بہت بڑا اور نمایاں اضافہ ہے۔

مزید پڑھیں: نادرا نے شناختی کارڈ پر گھر کا پتہ تبدیل کرانے کا انتہائی آسان طریقہ کار جاری کر دیا

کشمیری مہاجرین کی نشستوں پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ:

اس دوران سپریم کورٹ نے انتخابی عمل میں حائل ایک بہت بڑی آئینی رکاوٹ کو بھی ہمیشہ کے لیے دور کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص قانون ساز اسمبلی کی 12 نشستوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے، جس کے بعد آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے بروقت انعقاد کی راہ میں حائل تمام بڑی رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں اور انتخابی راستے مزید ہموار ہو گئے ہیں۔