سماجی شخصیت صدیق عباسی چند روز میں سیاسی حکمت عملی طے کریں گے، استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا امکان

آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی گہما گہمی دن بہ دن انتہائی تیز ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف جہاں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی، اور پاکستان تحریک انصاف نے اپنے اپنے امیدواروں کو باقاعدہ طور پر ٹکٹ جاری کر دیے ہیں، وہیں دوسری جانب آزاد امیدواروں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی سبھی حلقوں سے انتخابی میدان میں پوری طرح موجود ہے۔

ان آزاد امیدواروں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اس بار ٹکٹ جاری نہیں کیا، جبکہ ان میں زیادہ تعداد ایسے امیدواروں کی ہے جن کا سرے سے کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان آزاد امیدواروں میں سے بہت سے لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مختلف اہم شعبہ جات میں وسیع اور طویل تجربہ کار ہیں۔

ضلع نیلم میں انتخابی امیدواروں کے اعداد و شمار:

سیاسی گہما گہمی کے اس ماحول میں مظفرآباد ڈویژن کے ضلع نیلم کے دو حلقہ جات سے کل 71 امیدواروں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے ہیں، جن میں لوئر نیلم حلقہ سے 32 امیدوار اور اپر نیلم حلقہ سے 39 امیدوار شامل ہیں۔ اگر بات کی جائے لوئر نیلم حلقہ کی، تو سیاسی وابستگی سے ہٹ کر جو آزاد امیدوار سامنے آئے ہیں ان میں صدیق عباسی کو مضبوط ترین امیدوار مانا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عام انتخابات : حلقے میں میرا اصل مقابلہ شاہ غلام قادر سے ہے، جاوید بٹ

نامور سماجی شخصیت صدیق عباسی کا پروفائل:

سوشل سیکٹر کی نامور شخصیت اور آزاد امیدوار صدیق عباسی کا تعلق مشہور عباسی خاندان سے ہے اور ان کی تعلیمی قابلیت ماسٹرز ہے۔ وہ میڈیا کی فیلڈ میں 10 سال سے زیادہ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں جبکہ سوشل سیکٹر میں پچھلے 15 سال سے مسلسل فلاحی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ صدیق عباسی کا نیلم کے دونوں حلقوں میں گراس روٹ لیول پر گہرا تعلق ہے اور عوام کی خدمت کی بدولت ان کا ایک وسیع حلقہ اثر موجود ہے۔

صدیق عباسی بحیثیت ڈویلپمنٹ پروفیشنل آزاد کشمیر و پاکستان میں ایک وسیع تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگلے چند روز میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر میں باقاعدہ طور پر لانچ ہونے جا رہی ہے اور قوی امکان ہے کہ صدیق عباسی اس کا حصہ بنیں گے اور آئندہ چند روز میں وہ اپنی حتمی سیاسی حکمت عملی طے کر کے لوئر حلقہ سے استحکام پاکستان پارٹی کے متوقع امیدوار بھی ہو سکتے ہیں۔

روایتی جماعتوں کو سخت مقابلے کا سامنا:

اگر صدیق عباسی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں تو وہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے امیدواروں کو شدید ٹف ٹائم دیں گے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف عوام میں اپنی مقبولیت و قبولیت کھو چکی ہیں، جس کے پیش نظر صدیق عباسی اپنے اچھے اخلاق، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے اور فلاحی کاموں کی بدولت بزرگوں اور نوجوانوں میں یکساں مقبول اور مضبوط امیدوار ہیں۔

دوسری جانب اگر بالائی حلقہ یعنی اپر نیلم کی بات کی جائے تو وہاں کے آزاد امیدواروں میں ارشد ظفر تمام امیدواروں سے زیادہ تعلیم یافتہ اور مضبوط ترین امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں، جو کہ پیشہ کے اعتبار سے ایک قابل ڈاکٹر ہیں۔ موجودہ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں آزاد امیدوار روایتی جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرے ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: 45 حلقوں کے 1265 کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل، 41 مسترد