آزاد کشمیر کا 286 ارب روپے کا بجٹ آج اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، صدر نے منظوری دے دی

مظفرآباد: صدر آزاد کشمیر نے عبوری آئین 1974ء آرٹیکل 38 (1) کے تحت نظر ثانی میزانیہ 2025-26 اور تخمینہ میزانیہ 2026-27 آج کے اجلاس میں پیش کیے جانے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد محکمہ مالیات نے اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کا مجموعی طور پر 286 ارب روپے کا سالانہ بجٹ آج قانون ساز اسمبلی کے اہم اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ بجٹ اجلاس آج صبح 11 بجے منعقد ہوگا، جس میں وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید مالی سال 2026-27 کا سالانہ بجٹ ایوان کے سامنے پیش کریں گے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً 286 ارب روپے حجم کا یہ بجٹ تیار کیا گیا ہے، جو موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ 262 ارب روپے کے بجٹ کے مقابلے میں 24 ارب روپے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رجسٹریشن کیس: سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

بجٹ کے بنیادی اخراجات اور تجاویز:

مجوزہ بجٹ کی تفصیلات کے مطابق اس میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 250 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز شامل ہے، جبکہ دوسری جانب سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے لیے 36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ مالی سال 2025-26 کے آغاز پر پہلے 310 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں نظرثانی کے دوران اس کا حجم کم کر کے 262 ارب روپے کر دیا گیا تھا۔

ترقیاتی منصوبے اور بجٹ پر بحث:

ذرائع کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے، عوامی بہبود اور دیگر اہم ترقیاتی شعبوں کے لیے بھی مختلف مالی اقدامات اور نئے منصوبوں کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔ وزیر خزانہ کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد قانون ساز اسمبلی میں اس پر عام بحث کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان بجٹ پر اپنی اپنی تجاویز اور آراء پیش کریں گے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی پری بجٹ اجلاس، عوام دوست بجٹ پیش کرنے کا عزم