بینظیر انکم سپورٹ پروگرام: موبائل سم کے حصول کی آخری تاریخ میں 30 جون 2026 تک توسیع کا اعلان

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی جانب سے مستحق خواتین کے لیے بینظیر موبائل سم حاصل کرنے کی آخری تاریخ میں 30 جون 2026 تک توسیع کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ’بینظیر موبائل سم نہیں تو ادائیگی نہیں‘ ہوگی، اس لیے تمام متعلقہ خواتین مقررہ وقت کے اندر اپنی سم کا حصول لازمی یقینی بنائیں۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا یہ اقدام بینظیر کے اس بینظیر خواب کو پورا کرنے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد ’ہر عورت خود مختار، بااختیار‘ بنانا ہے۔ پروگرام کے تحت رقم کی شفاف اور آسان فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے موبائل سم کے حصول اور رقم کی وصولی کے طریقہ کار کو تین مختلف اور آسان ترین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ خواتین کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں: بینظیر تعلیمی وظائف: وظیفہ حاصل کرنے کا طریقہ اور رجسٹریشن کی مکمل تفصیلات جانیے!

مرحلہ نمبر 1: مفت سم کا حصول اور طریقہ کار:

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں مفت سم کا حصول شامل ہے۔ ایسی تمام خواتین جنہوں نے ابھی تک اپنی مخصوص بینظیر موبائل سم حاصل نہیں کی ہے، ان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے اصل شناختی کارڈ (CNIC) اور اپنے موبائل فون کے ہمراہ قریبی بی آئی ایس پی (BISP) دفتر تشریف لائیں اور وہاں سے اپنی مفت سم حاصل کریں۔

مرحلہ نمبر 2: ڈیجیٹل والٹ کی لازمی ایکٹیویشن:

مفت موبائل سم حاصل کرنے کے بعد دوسرا اہم ترین مرحلہ ڈیجیٹل والٹ کی ایکٹیویشن کا ہے۔ پروگرام کی ہدایات کے مطابق، سم حاصل کرنے کے ٹھیک 5 دن بعد مستحق خواتین اپنے متعلقہ بینک کے قریبی ریٹیلر کے پاس جائیں اور وہاں سے اپنا ڈیجیٹل والٹ لازمی ایکٹیویٹ (فعال) کروائیں تاکہ رقم کی منتقلی کا عمل شروع ہو سکے۔

مرحلہ نمبر 3: ایکٹیویشن کے بعد رقم کی آسان وصولی:

تیسرا اور آخری مرحلہ اکاؤنٹ فعال ہونے کے بعد رقم کی وصولی کا ہے۔ جیسے ہی خواتین کا اکاؤنٹ اور ڈیجیٹل والٹ مکمل طور پر فعال ہو جائے گا، اس کے بعد وہ پورے ملک میں کسی بھی جگہ سے پروگرام کے پارٹنر بینک کے کسی بھی پی او ایس (POS) ریٹیلر کے پاس جا کر اپنی سہولت کے مطابق اپنی رقم آسانی سے وصول کر سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 25 ارب روپے سے زائد کی خرد برد کا تہلکہ خیز اسکینڈل منظرِ عام پر آگیا