بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مالی سال 2024-25ء کے حوالے سے آڈٹ سال 2025-26ء کی رپورٹ میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ دستاویزات کے مطابق ناقص پروفائلنگ، نظامی کمزوریوں اور ضابطہ جاتی خامیوں کے باعث سرکاری ملازمین، گاڑیوں کے مالکان اور دہری رجسٹریشن رکھنے والے افراد سمیت 6 لاکھ سے زائد نااہل افراد کو مبینہ طور پر اربوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
آڈٹ میں بی آئی ایس پی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (بی آئی ایس پی ایم آئی ایس) میں شریک حیات کے ڈیٹا کی پروفائلنگ میں سنگین کمزوریاں سامنے آئیں، جن کے تحت 601850 کیسز میں 25 ارب روپے سے زائد کے مالی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کی 24 دسمبر 2019ء کی واضح ہدایت کے باوجود، جس کے تحت سرکاری ملازمین اور ان کے شریک حیات کو اس پروگرام سے خارج کیا گیا تھا، مالی سال 2024-25ء کے دوران غیر مشروط نقد منتقلی (یو سی ٹی) پروگرام کے تحت 12078 سرکاری ملازمین، پنشنرز یا ان کے شریک حیات کو 515.712 ملین روپے ادا کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بینظیر تعلیمی وظائف: وظیفہ حاصل کرنے کا طریقہ اور رجسٹریشن کی مکمل تفصیلات جانیے!
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ادائیگیاں:
ان بے ضابطگیوں کی تفصیلات کے مطابق حاضر سروس سرکاری ملازمین میں گریڈ ایک تا 16 کے 673 مستفیدین کو 25.20 ملین روپے اور گریڈ 17 کے 8 مستفیدین کو 0.09 ملین روپے ادا کیے گئے۔ اسی طرح حاضر سروس ملازمین کے شریک حیات کے زمرے میں گریڈ ایک تا 16 کے 9124 مستفیدین کو 402.80 ملین روپے اور گریڈ 17 سے 20 کے 87 مستفیدین کو 2.54… ملین روپے غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے۔
اس کے ساتھ ساتھ پنشنرز کی مد میں گریڈ ایک تا 16 کے 218 افراد کو 7.41 ملین روپے اور گریڈ 17 سے 18 کے 22 افراد کو 0.70 ملین روپے دیے گئے۔ پنشنرز کے شریک حیات کے شعبے میں گریڈ ایک تا 16 کے 1847 مستفیدین کو 74.16 ملین روپے اور گریڈ 17 سے 20 کے 107 مستفیدین کو 2.81 ملین روپے ادا کیے گئے۔ ان ہولناک انکشافات کے بعد ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) نے ان تمام مستفیدین کی فوری بلاکنگ اور رقوم کی واپسی کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔
گاڑیوں کے مالکان اور ڈپلیکیٹ وظائف:
مزید برآں، اسلام آباد میں رجسٹرڈ 275,000 گاڑیوں کے ٹیسٹ چیک سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقررہ حد سے زیادہ موٹر گاڑیوں کے مالک 1,719 مستفید ہونے والوں کو یو سی ٹی ادائیگیاں موصول ہوتی رہیں، جن کی کل رقم 69.744… ملین روپے بنتی ہے اور یہ رقم بے قاعدہ طور پر تقسیم کی گئی۔ آڈٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ چونکہ اسلام آباد قومی رجسٹریشن کے صرف ایک چھوٹے حصے کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے گاڑیوں کے مالکان کو ملک بھر میں کی جانے والی غیر قانونی ادائیگیوں کا حجم کافی زیادہ ہو سکتا ہے۔
آڈٹ رپورٹ نے سماجی تحفظ کے پروگراموں کے درمیان ہم آہنگی کے شدید فرق کو بھی اجاگر کیا ہے۔ پاکستان بیت المال (پی بی ایم) کے تحت چلنے والے کل 165 مکمل طور پر اسپانسر شدہ اسکولوں کا بیک وقت بی آئی ایس پی کے بینظیر تعلیم وظائف پروگرام کے تحت اندراج کیا گیا، جس کے نتیجے میں 17.690 ملین روپے کی ڈپلیکیٹ وظیفہ کی ادائیگیاں ہوئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت 278 سرکاری ملازمین کو ہائیر سیکنڈری کے طلباء کے طور پر بے قاعدہ طور پر اندراج کیا گیا، جس سے ان کے اہل خانہ کے لیے 2.546 ملین روپے مشروط منتقل ہوئے۔
فیلڈ تصدیق اور ڈیٹا سسٹم کی خرابیاں:
پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں 22 منتخب اسکولوں کی بے ترتیب فیلڈ تصدیق نے مزید تصدیق کی کہ ان اداروں میں تمام 23 نمونے لینے والے مستحقین نے یا تو اپنی تعلیم مکمل کر لی تھی یا اب ان کا اندراج نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ادائیگیوں میں بے ضابطگی پائی گئی۔ اس کے علاوہ ڈیٹا سسٹم میں سنگین خامیوں جیسے غائب شناختی معلومات، ڈپلیکیٹ ریکارڈز، غلط ازدواجی حیثیت اور ایک ہی شناخت سے متعدد اندراجات کی نشاندہی ہوئی، جس کے باعث مجموعی مالی بے ضابطگیاں 25 ارب روپے سے تجاوز کر گئیں۔
بی آئی ایس پی کے ڈیٹا سسٹم میں کئی حیران کن غلطیاں سامنے آئیں جن میں ایک ہی شوہر کا شناختی کارڈ 5,558 کیسز میں سات مختلف خواتین مستفیدین سے منسلک پایا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 239 ملین روپے کی ادائیگیاں ہوئیں۔ اسی طرح 5 لاکھ 96 ہزار سے زائد مستفید افراد کے ریکارڈ میں شوہر کا شناختی کارڈ موجود ہی نہیں تھا، جس کے تحت تقریباً 25 ارب 45 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے۔ سسٹم کی کمزوری کے باعث 97,179 کیسز میں ایک ہی گھرانے کے سربراہ کے لیے مختلف اسکور (پی ایم ٹی) بنائے گئے، جس سے 18,964 افراد کا غلط اندراج ہوا اور تقریباً 533 ملین روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی بینظیر پروگرام کے نام پر سیاست کررہی اور نوکریاں بیچی جا رہی ہیں ، شاہ غلام قادر
ناممکن بے ضابطگیاں اور مستقبل کی حکمتِ عملی:
اس کے علاوہ 7,020 خواتین کو بھی ادائیگیاں کی گئیں جنہیں پہلے شادی شدہ ظاہر کیا گیا تھا، لیکن بعد میں سروے میں وہ غیر شادی شدہ ثابت ہوئیں، جس سے مزید 104 ملین روپے کی ادائیگیوں میں بے ضابطگی سامنے آئی۔ آڈٹ نے ڈائنامک رجسٹری میں اعدادوشمار کے لحاظ سے ناممکن بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی جہاں ایک گھرانے کے تحت 5 سے 10 شادی شدہ خواتین مستفید ہونے والوں کو ریکارڈ کیا گیا، اور اس توثیق کے کنٹرول کی کمی کے نتیجے میں مالی سال 2024-25ء کے دوران مجموعی طور پر 17.374 ملین روپے کی خطیر رقم تقسیم کی گئی۔
ان سنگین نتائج کے جواب میں، ڈی اے سی نے بی آئی ایس پی انتظامیہ کو پاکستان بیت المال کے ساتھ ایک باضابطہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اے پی آئی انضمام قائم کیا جا سکے اور ڈپلیکیٹ فوائد کی تقسیم کو روکا جا سکے۔ رپورٹ میں حتمی طور پر سفارش کی گئی ہے کہ ڈیٹا بیس کو نادرا اور دیگر اداروں سے منسلک کیا جائے، ڈپلیکیٹ ریکارڈز ختم کیے جائیں اور سخت مانیٹرنگ نظام نافذ کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی بے قاعدگیوں کو روکا جا سکے۔




