امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات میں پاکستان کے سفارتی کردار اور کامیاب ثالثی کے تناظر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔
دورے کے دوران وہ پاکستان کی اعلٰی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ایرانی صدر کے دورے کے پیشِ نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جب کہ شاہراہِ دستور اور اہم سرکاری عمارتوں پر پاکستان اور ایران کے قومی پرچم آویزاں کر دئیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے معاہدے کی پابندی نہیں کی تو جو کرنا ضروری ہوا وہ کروں گا، ٹرمپ
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ سرکاری دورے پر آج پاکستان پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
دورے کو حالیہ علاقائی صورتِ حال اور ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی پیش رفت کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایرانی صدر کے استقبال اور سکیورٹی کے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ شاہراہِ دستور سمیت اہم سرکاری عمارتوں اور شاہراہوں پر پاکستان اور ایران کے قومی پرچم آویزاں کر دیے گئے ہیں، جب کہ سکیورٹی ادارے دورے کے دوران امن و امان کی صورتِ حال یقینی بنانے کے لیے متحرک ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان اپنے دورۂ اسلام آباد کے دوران پاکستانی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتِ حال اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔
ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، سرحدی تعاون، توانائی اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
دورے کے ایجنڈے میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی صدر حالیہ سفارتی پیش رفت، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کریں گے۔
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا، جسے تہران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران، امریکہ معاہدہ: پاکستان کی شاندار سفارتکاری،نئی عالمی تاریخ رقم کردی
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر پزشکیان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل، جاری تعاون کو مزید وسعت دینے اور پہلے سے طے شدہ اقتصادی و تجارتی معاہدوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے بھی اہم ہے۔
دونوں ممالک کی قیادت باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کرے گی۔
مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد یہ ایرانی صدر پزشکیان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے، جس سے پاکستان اور ایران کے قریبی تعلقات اور خطے میں اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے۔




