وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کہا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں موٹر سائیکل چلانے والوں کیلئے سستے پیٹرول کی ریلیف اسکیم کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔
نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس اسکیم کو بند کرنے یا جاری رکھنے کا آخری فیصلہ وزیرِاعظم شہباز شریف صوبائی حکومتوں سے مشورے کے بعد کریں گے ۔
حکومت اس وقت ملک کے معاشی حالات کو دیکھ رہی ہے کہ آیا اس اسکیم کو اسی طرح چلایا جائے یا اس میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں ۔ علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ یہ اسکیم وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مل کر اس لیے شروع کی تھی تاکہ غریب اور متوسط طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جا سکے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کاتعاون جاری، ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر لاگت کا حساب نہیں لگایا جاسکتا، علی پرویز ملک
ان کے مطابق حکومت اس پروگرام کے ذریعے اب تک شہریوں کو تقریباً 130 ارب روپے کی مالی مدد دے چکی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ رقم صرف ان موٹر سائیکل سواروں کو براہِ راست ان کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی جنہوں نے اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ایکسائز کا بالکل درست ڈیٹا فراہم کیا تھا ۔
حکومت کا مقصد ایک صاف اور شفاف طریقے سے اصل حقداروں تک امداد پہنچانا تھا۔یاد رہے کہ پیٹرول مہنگا ہونے پر حکومت نے موٹر سائیکل والوں کیلئے ہر مہینے 2,000 روپے کی سبسڈی دینے کا آغاز کیا تھا، جس کیلئے ایک موبائل ایپ بھی بنائی گئی تھی جہاں شہری اپنی رجسٹریشن کروا کر یہ پیسے حاصل کر رہے تھے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دباؤ کے باوجود متوازن فیصلہ، زراعت و ٹرانسپورٹ کے تحفظ کیلئے کم بوجھ رکھا گیا،علی پرویز ملک
دوسری طرف حالیہ دنوں میں حکومت نے حال ہی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی ہے ۔ پیٹرول 74 روپے 28 پیسے اور ڈیزل 67 روپے 31 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا ہے، جس کے بعد اب پیٹرول کی نئی قیمت 299 روپے 50 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے ۔



