سعودی عرب کاتعاون جاری، ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر لاگت کا حساب نہیں لگایا جاسکتا، علی پرویز ملک

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) وفاقی وزیر علی پرویز ملک نےنجی ٹی وی کے پروگرام میں فرخ سلیم کے اس سوال پر کہ 9 مارچ کو بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ اور پھر تیز کمی واقع ہوئی تو کیا پاکستان میں بھی تیل کی قیمتیں کم ہوں گی؟ وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر ٹینکروں کی کمی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پونچھ یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر آنسہ حادثے میں زندگی کی بازی ہار گئیں

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ علاقائی حالات کی وجہ سے کئی کمپنیاں ٹینکروں کا انشورنس کرنے سے گریز کر رہی ہیں اور اضافی پریمیم بھی عائد کیا جا رہا ہے، جو حکومت کیلئے مجموعی لاگت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔

عملی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر لاگت کا حساب نہیں لگانا چاہیے؛ سعودی عرب پاکستان کی مدد کر رہا ہے ۔۔

بڑے ٹینکر کی بندوبست کر رہا ہے، جسے عمان میں لنگر انداز کیا جائے گا اور وہاں سے چھوٹے کیریئر جہازوں کے ذریعے پاکستان منتقل کیا جائے گا۔۔

سعودی عرب نے پاکستان کو بڑے پیمانے پر تعاون فراہم کیا ہے اور حتیٰ کہبہت بڑا کروڈ کیریئر  فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔۔

تاہم یہ بڑے جہاز پاکستانی بندرگاہوں پر براہِ راست نہیں لنگر انداز ہو سکتے؛ جب روس سے بہت بڑا کروڈ کیریئر پہنچتا ہے تو اسے عمان میں لنگر انداز کیا جاتا ہے۔۔

پھر پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہاز عمان پہنچ کر تیل کو چھوٹے جہازوں میں منتقل کرتے ہیں تاکہ پاکستان لے جایا جا سکے؛ عوام کو گمراہ نہ کریں کیونکہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور سب امید کرتے ہیں کہ پاکستان ان چیلنجز پر قابو پا لے گا۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ معاملہ اس طرح نہیں ہوتا کہ ایک بیچ  نکال لیا جائے اور پھر اگلے بیچ کی قیمت کے مطابق حساب کیا جائے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بدلتی رہتی ہیں اور کمپنیوں کو اپنی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے نئے مال کی خریداری کا بھی انتظام کرنا ہوتا ہے۔

کمپنیوں کے لائسنس کی شرط ہوتی ہے کہ وہ کم از کم 20سے 25دن کا اسٹاک اپنے پاس رکھیں، چاہے اس کی قیمت 10روپے ہو یا 100روپے، اس کے بعد ہفتہ وار قیمتوں میں جو فرق آتا ہے، اسے کاروباری عمل کا حصہ سمجھ کر برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ کا خاتمہ جلد مگر رواں ہفتے ممکن نہیں ، امریکی صدر ٹرمپ

اگر آج کی قیمت کے مطابق کمپنیوں نے 25 دن بعد نیا مال خریدنا ہے تو انہیں قیمتوں کے حوالے سے ایک حد تک پیش بینی اور استحکام دینا ضروری ہوتا ہے۔

کیونکہ اگر عالمی قیمتیں اچانک گر جائیں تو حکومت کمپنیوں کو اس کا نقصان واپس نہیں دیتی۔ اسی طرح اگر قیمتیں بڑھ جائیں تو وہ بھی کاروبار کے عمومی اتار چڑھاؤ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں تقریباً 40سے 42 پیٹرولیم کمپنیاں اس شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حال میں مطلوبہ مقدار میں تیل کا ذخیرہ رکھیں تاکہ عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری رہے۔

اسی مقصد کے لیے اوگرا کی ٹیمیں،فیلڈ مارشل کی زیر نگرانی ڈی جی لاجسٹکس کی ٹیم اور تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کمپنیاں اپنی ذخیرہ رکھنے کی ذمہ داری پوری کریں اور پیٹرول پمپوں پر سپلائی متاثر نہ ہو۔

قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کاروبار کا حصہ ہے، لیکن حکومت اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی کہ پیٹرول پمپوں پر تیل کی قلت پیدا ہو۔ اسی لیے نظام کو اس طرح چلایا جاتا ہے کہ سپلائی کا تسلسل برقرار رہے اور مارکیٹ میں مصنوعات دستیاب رہیں۔

Scroll to Top