وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے بنوں میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور بزدلانہ فعل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قوم متحد ہو کر دہشت گردی کے ناسور کے خلاف ایک آخری اور فیصلہ کن جنگ لڑے ۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی سفارتی محاذ پر بہت بڑی اور نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔
انہوں نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی لہر کے پیچھے براہِ راست بھارت اور افغانستان ملوث ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر کی پارلیمنٹ میں نمائندگی،خواجہ آصف نے بلاول بھٹو کی تجویز کی حمایت کردی
عالمی سطح پر ہزیمت اٹھانے کے بعد اب افغانستان بھی بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے پاکستان میں بدامنی اور دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔تاہم ان تمام دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر خواجہ آصف نے مزید کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی بھارتی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی ۔
وہاں کچھ ایسے عناصر سرگرم ہیں جو بھارتی ایما پر ہمارے شہداء کی عظیم قربانیوں کو فراموش کر رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ وادی میں بھارتی ظلم و ستم کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور کشمیری قیادت کو جبراً جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر کی مہاجرین نشستوں کا فیصلہ فارن فنڈڈ تنظیم نہیں عوام اور مہاجرین کوکرنے دیا جائے، خواجہ آصف
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور جس کے بھی تانے بانے بھارت سے ملیں گے، اس کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑی جائے گی ۔




