وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بزرگ شہریوں اور پنشنرز کے لیے ایک انقلابی اور جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے ۔
نئے نظام کے تحت اب پنشنرز چہرہ شناسی (فیس ریکگنیشن) کے ذریعے گھر بیٹھے اپنی بائیومیٹرک تصدیق کر سکیں گے، جس کے بعد انہیں بینکوں کے طویل چکروں اور قطاروں سے نجات مل جائے گی ۔
وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ اس ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد سرکاری امور کو آسان، شفاف اور جدید بنانا ہے تاکہ ملک کے بزرگ شہریوں کو کسی بھی قسم کی انتظامی مشکل یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ، ٹیکس گزاروں کو ریلیف:
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں نمایاں اضافہ کیا ہے ۔ اس کیساتھ ہی، پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے باقاعدہ شہریوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے جامع اصلاحات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال سے سرکاری نظام میں صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔
مثبت معاشی اشاریے اور ایکسپورٹ لیڈ گروتھ:
ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ملکی کرنٹ اکاؤنٹ اب سرپلس (بچت) میں آ چکا ہے ۔ معیشت کو سہارا دینے میں اوورسیز پاکستانیوں اور فری لانسرز کا کردار کلیدی رہا ہے:
ترسیلاتِ زر:
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 4.25 ارب ڈالر کا زرمبادلہ ملک بھیجا۔
فری لانسنگ سیکٹر:
پاکستانی فری لانسرز نے 1.6 ارب ڈالر کی خطیر رقم ملکی معیشت میں منتقل کی۔
وزیرِ خزانہ نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت کی ترجیح برآمدات پر مبنی معاشی ترقی (ایکسپورٹ لیڈ گروتھ) کو فروغ دینا ہے۔ اس مقصد کیلئے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، جس میں پاک-چین تعاون اور کسانوں کے لیے جدید زرعی تربیت کے منصوبے بھی شامل ہیں ۔




